உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کرناٹک کے پری اسکولوں کاکل سے دوبارہ ہوگا آغاز، اہم ہدایات پر عمل ضروری! یہ ہیں رہنما ہدایات

    علامتی تصویر

    علامتی تصویر

    تمام اساتذہ اور اسکول عملے کے ارکان کو لازمی طور پر آر ٹی پی سی آر (RT-PCR) منفی سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا، چاہے انہیں کورونا ویکسین کی دونوں خوراکوں کے ساتھ ٹیکہ لگایا گیا ہی کیوں نہ ہو۔ وہیں 50 سال سے زیادہ عمر کے اساتذہ کو بھی لازمی سر پوشاک اور تہبند پہننا ہوگا۔

    • Share this:
      کرناٹک حکومت (Karnataka government ) 8 نومبر 2021 سے پری اسکول دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ ریاست میں 62,580 سے زیادہ آنگن واڑیوں میں تین سے چھ سال کی عمر کے تقریباً 56.50 لاکھ طلبا کے لیے فزیکل کلاسیں کا آغاز ہوا ہوگا۔ اسکول لوئر کنڈرگارٹن (LKG) اور اپر کنڈرگارٹن (UKG) کے لیے صبح 10 بجے سے دوپہر 12 بجے تک ان علاقوں میں کام کریں گے جہاں کورونا وائرس کے کیسوں کی شرح دو فیصد سے کم ہے۔

      تمام اساتذہ اور اسکول عملے کے ارکان کو لازمی طور پر آر ٹی پی سی آر (RT-PCR) منفی سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا، چاہے انہیں کورونا ویکسین کی دونوں خوراکوں کے ساتھ ٹیکہ لگایا گیا ہی کیوں نہ ہو۔ وہیں 50 سال سے زیادہ عمر کے اساتذہ کو بھی لازمی سر پوشاک اور تہبند پہننا ہوگا۔

      بچوں کو اپنے والدین کی طرف سے ایک رضامندی کا خط لے کر جانا ہو گا
      بچوں کو اپنے والدین کی طرف سے ایک رضامندی کا خط لے کر جانا ہو گا


      ڈپارٹمنٹ آف پبلک انسٹرکشن (DPI) کی طرف سے جاری کردہ رہنما خطوط کے مطابق بچوں کو اپنے والدین کی طرف سے ایک رضامندی کا خط لے کر جانا ہو گا جس میں انہیں فزیکل کلاسز میں شرکت کی اجازت ہوگی۔ والدین کو سفارش کی گئی ہے کہ وہ بچوں کو پینے کے پانی کے ساتھ گھر کا پکا ہوا کھانا بھی بھیجیں۔ ان بچوں کو کھانسنے کے بنیادی آداب سکھانے اور ہر وقت رومال ساتھ رکھنے کی درخواست کی ہے۔

      اسکول کو سینیٹائز کرنے کی ضرورت ہے اور اسے ہر وقت سماجی دوری کے پروٹوکول کو برقرار رکھنا چاہیے۔ اگر کسی طالب علم میں کوئی علامات ظاہر ہوتی ہیں، تو اس کا کووڈ 19 کے لیے ٹیسٹ کیا جائے گا اور کسی اسکول میں کافی تعداد میں طلبا کے مثبت آنے کی صورت میں رہنما خطوط کے مطابق کیمپس بند کر دیا جائے گا۔

      ریاستی وزارت برائے بہبودی خواتین و بچوں کے وزیر ہلپا اچار نے کہا ہے کہ بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ تدریسی اور غیر تدریسی عملے کو بتایا گیا ہے کہ بخار، زکام اور سانس لینے میں دشواری جیسی علامات والے بچوں کی نگرانی کیسے کی جائے۔ اب تک بچوں کو غذائی قلت سے بچانے کے لیے ان کے گھر گھر پہنچ کر غذائیت سے بھرپور خوراک پہنچائی جاتی تھی۔ آنگن واڑی ایک ماں اور بچے کی دیکھ بھال کے ترقیاتی پروگرام ہیں جو حکومت کے زیر اہتمام ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: