ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

بڑی خبر: کرناٹک میں پیش امام اور موذن کیلئے پنشن اسکیم کا اعلان، ماہانہ 2 ہزار اور ڈیڑھ ہزار روپئے وظیفہ مقرر

کرناٹک ریاستی وقف بورڈ کے رکن مولانا شافعی سعدی نے کہا کہ ریاستی حکومت کے محکمہ اقلیتی بہبود نے اس نئی اسکیم کو منظوری دی ہے۔ ایسے ائمہ کرام اور موذنین جن کی عمر 65 سال ہے، پنشن کی اسکیم کیلئے اپنے اپنے ضلع کے وقف آفیسر کو درخواست دے سکتے ہیں۔

  • Share this:
بڑی خبر: کرناٹک میں پیش امام اور موذن کیلئے پنشن اسکیم کا اعلان، ماہانہ 2 ہزار اور ڈیڑھ ہزار روپئے وظیفہ مقرر
کرناٹک میں پیش امام اور موذن کیلئے پنشن اسکیم کا اعلان

بنگلورو: کرناٹک ریاستی وقف بورڈ نے پیش اماموں اور موذنین کیلئے ماہانہ اعزازیہ کی اسکیم کے ساتھ پنشن کی اسکیم بھی شروع کی ہے۔ پیش امام کیلئے 2 ہزار روپئے جبکہ موذن کیلئے ڈیڑھ ہزار روپئے ماہانہ وظیفہ دینے کا فیصلہ لیا ہے۔ کرناٹک ریاستی وقف بورڈ کے رکن مولانا شافعی سعدی نے کہا کہ ریاستی حکومت کے محکمہ اقلیتی بہبود نے اس نئی اسکیم کو منظوری دی ہے۔ ایسے ائمہ کرام اور موذنین جن کی عمر 65 سال ہے، پنشن کی اسکیم کیلئے اپنے اپنے ضلع کے وقف آفیسر کو درخواست دے سکتے ہیں۔


مولانا شافعی سعدی نےکہا کہ ریاستی حکومت وقف بورڈ کے ذریعہ فی الوقت تقریبا 13 ہزار پیش اماموں اور موذنین کو ماہانہ اعزازیہ دے رہی ہے۔ پیش امام کو 4 ہزار اور موذن کو تین ہزار روپئے ماہانہ اعزازیہ راست طور پر انکے بینک کھاتے میں جمع کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اب کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے سبب کئی مساجد کیلئے  آمدنی کا مسئلہ پیدا ہوا ہے، ان  حالات کو دیکھتے ہوئے بورڈ نے اپنی میٹنگ میں ماہانہ اعزازیہ کی اسکیم میں مزید توسیع کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔


مولانا شافعی سعدی نےکہا کہ ریاستی حکومت وقف بورڈ کے ذریعہ فی الوقت تقریبا 13 ہزار پیش اماموں اور موذنین کو ماہانہ اعزازیہ دے رہی ہے۔


ماہانہ اعزازیہ کی اسکیم کیلئے آئی  700 نئی درخواستوں کو حال ہی میں وقف بورڈ نے ریاستی حکومت سے منظوری حاصل کرلی ہے۔ جولائی یا اگست سے نئے درخواست گزاروں کو  ماہانہ اعزازیہ ملنا شروع ہوگا۔ مولانا شافعی سعدی نے کہا کہ  ماہانہ اعزازیہ اور پنشن کی اسکیم کیلئے درخواستیں حاصل کرنے کا سلسلہ جاری ہے، ائمہ کرام اور موذنین اپنے اپنے اضلاع کے وقف افسروں سے رجوع ہوکر درخواست دے سکتے ہیں۔



واضح رہے کہ 2009  میں قائم اس وقت کی یڈیورپا حکومت کے دوران سابق وزیر اقلیتی بہبود، حج اور اوقاف پروفیسر ممتاز علی خان نے پیش اماموں اور موذنین کیلئے ماہانہ اعزازیہ کی اسکیم شروع کی تھی۔ اس منصب کے تقدس کو دھیان میں رکھتے ہوئے تنخواہ کی بجائے اعزازیہ انگریزی میں ہانروریم کا لفظ استعمال کیا گیاتھا۔ آج بھی یہ اسکیم جاری ہے۔ کرناٹک وقف بورڈ کے خصوصی افسر مجبیب اللہ ظفاری نے کہا کہ سالانہ ایک لاکھ سے کم آمدنی رکھنے والے مساجد کے پیش اماموں اور موذنین کیلئے یہ اسکیم نافذ کی گئی ہے۔ اس معاملے میں 1995 کا سپریم کورٹ کا ایک آرڈر بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا سب سے پہلے مغربی بنگال حکومت نے ائمہ اور موذنین کیلئے ماہانہ اعزازیہ  دینے کا سلسلہ شروع کیا اس کے بعد کرناٹک اور ملک کی چند دیگر ریاستوں میں یہ اسکیم شروع ہوئی۔



ریاست کے معروف عالم دین مولانا سید تنویر پیراں ہاشمی کی قیادت میں قائم جماعت اہل سنت کرناٹک نے ائمہ اور موذنین کے ماہانہ اعزازیہ کی رقم میں اضافہ کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں چند ماہ قبل ریاستی حکومت اور وقف بورڈ کو یادداشت بھی پیش کی گئی ہے۔ جماعت اہل سنت کرناٹک کے جنرل سیکرٹری مفتی محمد علی قاضی نے کہا کہ موجودہ رقم جو 4 ہزار اور تین ہزار ہے، بلکل بھی ناکافی ہے، حکومت اور وقف بورڈ کو چاہئے کہ پیش امام کیلئے کم سے کم 10 ہزار اور موذن کیلئے کم سے کم 8 ہزار روپئے کا ماہانہ اعزازیہ مقرر کرے۔ نیوز 18 اردو کیلئے بنگلورو سے روف احمد ہلور کی رپورٹ
First published: Jul 01, 2020 06:01 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading