ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک:بی جے پی حکومت کوزبردست جھٹکا،مبینہ سیکس سی ڈی کےمنظرعام پرآنے کےبعدوزیر نےدیااستعفی

رمیش جارکی ہولی قانونی راہ بھی تلاش کرنے کی کوشش میں تھے کہ بی جے پی اعلی کمان کے دباؤ کے بعد انہوں نے کابینہ وزیر کی حیثیت سے اپنا استعفی سونپا۔رمیش جارکی ہولی کا یہ مبینہ سیکس اسکینڈل ایک ایسے وقت منظر عام پر آیا ہے جب کہ 4 مارچ سے ریاست کی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے جارہا ہے۔

  • Share this:

کرناٹک میں بی جے پی حکومت کو زبردست پشیمانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مبینہ سیکس سکینڈل کی سی ڈی منظر عام پر آنے کے بعد ریاستی کابینہ کے وزیر رمیش جارکی ہولی نے آج اپنا استعفی دے دیا ہے۔ اس سی ڈی میں سرکاری ملازمت دینے کی لالچ بتا کر خاتون کا مبینہ طور پر جنسی استحصال کرنے کا منظر موجود ہے۔ 2 مارچ بروز منگل کی شام جوں ہی اس سی ڈی کے منظر عام پر آنے کی خبر پھیلی، ریاست بھر میں کانگریس کے کارکنان سڑکوں پر اتر آئے اور حکومت کے خلاف احتجاج کرنے لگے۔ کانگریس اور جے ڈی ایس نے اخلاقی بنیاد پر فوری طور پر رمیش جارکی ہولی کے استعفی کا مطالبہ کیا۔ بہرحال اس سی ڈی کے منظر عام پر آنے کے بعد زبردست ہنگامہ آرائی، پرزور احتجاج اور عوام کے اعتراضات کو دیکھتے ہوئے بی جے پی اعلی کمان نے پہلی فرصت میں رمیش جارکی ہولی کا استعفی لینے کی وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا کو سخت ہدایت دی تھی۔ ہر جانب سے دباؤ کو دیکھتے ہوئے رمیش جارکی ہولی نے آخر کار اپنا استعفی وزیر اعلیٰ کو پیش کیا۔ اس کے بعد ریاست کے گورنر واجو بھائی والا نے استعفی منظور کیا۔


رمیش جارکی ہولی نے استعفی دینے کے بعد کہا کہ وہ پارٹی کو پریشانی سے بچانے کیلئے استعفی دے رہے ہیں، بے قصور ثابت ہونے پر انہیں دوبارہ انکے عہدے پر بحال کیا جائے۔ رمیش جارکی ہولی نے کہا کہ انکے خلاف عائد کیا گیا الزام سچائی سے کوسوں دور ہے۔ واضح رہے کہ دنیش کلہلی نامی سوشل ایکٹویسٹ نے کل دوپہر رمیش جارکی ہولی اور متاثرہ خاتون کی بات چیت پر مبنی قابل اعتراض سی ڈی بنگلورو کے پولیس کمشنر کمل پنتھ کے سامنے پہلی مرتبہ حاضر کی تھی۔ کمل پنتھ نے اس معاملے میں کبن پارک پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرنے کا مشورہ دیا۔ دنیش کلہلی نے متاثرہ خاتون کی جانب سے پولیس میں شکایت درج کی۔ پولیس میں کل رات تقریبا 8 بجے شکایت درج ہوئی لیکن دوپہر 2 بجکر 20 منٹ پر یہ سی ڈی یوٹوب پر اپلوڈ کی گئی تھی۔ پولیس ذرائع کے مطابق روس سے یہ سی ڈی اپلوڈ کی گئی ہے۔



اس معاملے سے بچنے کیلئے رمیش جارکی ہولی قانونی راہ بھی تلاش کرنے کی کوشش میں تھے کہ بی جے پی اعلی کمان کے دباؤ کے بعد انہوں نے کابینہ وزیر کی حیثیت سے اپنا استعفی سونپا۔رمیش جارکی ہولی کا یہ مبینہ سیکس اسکینڈل ایک ایسے وقت منظر عام پر آیا ہے جب کہ 4 مارچ سے ریاست کی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے جارہا ہے۔ بلگام ضلع سے تعلق رکھنے والے رمیش جارکی ہولی ریاست کی سیاست میں اپنا خاصہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ انہوں نے سابقہ کمار سوامی حکومت میں 17 باغی ارکان اسمبلی کی قیادت کرتے ہوئے کانگریس جے ڈی ایس کی مخلوط حکومت کو اقتدار سے بے دخل کیا تھا۔ انکی نمایاں کوشش سے ریاست میں دوبارہ بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی۔

رمیش جارکی ہولی کے استعفی کے بعد انکے حامیوں نے کرناٹک میں جگہ جگہ احتجاج بھی کیا ہے۔ انکے آبائی مقام گوکاک میں انکی حمایت میں زبردست احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا ہے۔ اس دوران کرناٹک حکومت نے اس سی ڈی کی جانچ سینٹرل کرائم برانچ (سی سی بی) سے کروانے کا فیصلہ لیا ہے۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Mar 03, 2021 09:27 PM IST