جموں و کشمیر کے ڈی جی پی نے کہا : دہشت گردوں کی بھرتی رکی ، لیکن پاکستانی دراندازی کی سازشیں جاری

جموں و کشمیر کے ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں میں مقامی نوجوانوں کی بھرتی ہونے کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے ، جس کا مطلب ہے کہ مقامی نوجوانوں کی دہشت گرد تنظیموں میں بھرتی پر پوری طرح سے لگام لگا دی گئی ہے ۔

Sep 11, 2019 09:38 PM IST | Updated on: Sep 11, 2019 09:38 PM IST
جموں و کشمیر کے ڈی جی پی نے کہا : دہشت گردوں کی بھرتی رکی ، لیکن پاکستانی دراندازی کی سازشیں جاری

فائل فوٹو ۔

مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کو ہٹا کر جموں و کشمیر کے خصوصی درجہ کو ختم کردیا ، جس کے بعد وہاں پر فوج کو تعینات کیا گیا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جاسکے ۔ لیکن اب رفتہ رفتہ کشمیر کے حالات بہتر ہوتے نظر آرہے ہیں ۔

بدھ کو اس سلسلہ میں گفتگو کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں میں مقامی نوجوانوں کی بھرتی ہونے کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے ، جس کا مطلب ہے کہ مقامی نوجوانوں کی دہشت گرد تنظیموں میں بھرتی پر پوری طرح سے لگام لگا دی گئی ہے ۔

Loading...

ڈی جی پی نے یہ بھی کہا کہ جنوبی کشمیر میں دہشت گردوں کے کچھ پھل بیچنے والوں کو دھمکانے کا معاملہ سامنے آیا تھا ۔ حالانکہ پولیس کو اس صورتحال کے بارے میں پتہ ہے اور اس پر توجہ دی جارہی ہے کہ کوئی کسی کو ڈرا دھمکا نہیں سکے ۔

انہوں نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ دہشت گرد تنظیموں میں مقامی نوجوانوں کی نئی بھرتیوں کی کوئی رپورٹ نہیں ہے ۔ کچھ نوجوانوں کو پہلے بہکایا گیا تھا ، لیکن ان میں سے کئی کو ہم واپس لانے میں کامیاب رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ جگہ دراندازی کی بھی خبریں ہیں اور گزشتہ ماہ گلمرگ سیکٹر میں دو پاکستانی دہشت گردوں کو فوج نے گرفتار کیا تھا ۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتہ فوج نے بتایا تھا کہ وادی میں دہشت گردی پھیلانے کیلئے پاکستان دہشت گردوں کو کشمیر میں دراندازی کرانے کی پوری کوشش کررہا ہے ۔ ویڈیو کلپس میں دکھایا جارہا ہے کہ لشکر طیبہ کے دو پاکستانی دہشت گردوں کو 21 اگست کو گلمرگ سیکٹر میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ یہ دونوں ہی راولپنڈی کے رہنے والے ہیں ۔

Loading...