کشمیرکادرد:رو پڑے یوسف تاریگامی، کہا آہستہ آہستہ موت کی طرف بڑھ رہے ہیں کشمیری

سی پی ایم لیڈر اور جموں و کشمیر کے سابق رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ کشمیری آہستہ آہستہ مر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو جنت نہیں چاہیے، وہ صرف آپ کے ہمراہ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

Sep 17, 2019 11:20 PM IST | Updated on: Sep 17, 2019 11:20 PM IST
کشمیرکادرد:رو پڑے یوسف تاریگامی، کہا آہستہ آہستہ موت کی طرف بڑھ رہے ہیں کشمیری

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ایم) کے قومی جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری اور جموں و کشمیر کے سابق رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے دہلی میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران۔(تصویر:نیوز18 اردو)۔

جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ایم) کے قومی جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری اور جموں و کشمیر کے سابق رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے دہلی میں مشترکہ پریس کانفرنس کی۔سی پی ایم کےلیڈر اور جموں و کشمیر کے سابق رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ کشمیری آہستہ آہستہ مر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو جنت نہیں چاہیے، وہ صرف آپ کے ہمراہ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب کشمیر کے کسی سیاسی لیڈر کو ملک کے سامنے اظہار خیال کیا، کیوں کہ جس دن سے کشمیر کو خصوصی حیثیت فراہم کرنے والے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو غیر موثر کیا گیا ہے تبھی سے مرکزی دھارے کے تقریباً تمام اہم لیڈران زیر حراست رکھے گئے ہیں۔ محمد یوف تاریگامی کو بھی خانہ نظر بند رکھا گیا تھا۔

Loading...

انہوں نے کہا کہ انہوں نے کشمیر میں برا ترین وقت دیکھا ہے لیکن آج وہ جس قدر پریشان ہیں اتنا وہ کبھی نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست سے بغیر مشورہ کیے آرٹیکل 370 کوغیرمؤثر کرنا اور ریاست کو از سر نو تشکیل دینا مودی حکومت کی جارحیت کو ظاہر کرتا ہے۔

یوسف تاریگامی نے کہا کہ کشمیریوں پر ہندوستان میں شامل ہونے کے لیے نہ تو دباؤ ڈالا گیا اور نہ ہی مجبور کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم اپنی مرضی سے سیکولر ہندوستان میں شامل ہوئے تھے۔انہوں نے کہا، ’’برائے کرم ہماری بات سنیں۔ آپ نے صرف ایک فریق کو سنا ہے، کشمیر کو بھی سنیں۔ ہم مارے جانا یا تباہ ہونا نہیں چاہتے۔‘‘

تاریگامی نے کہا کہ روتے ہوئے کہا کہ 'ہم ہندوستان کی دیگرریاستوں میں رہنے والے لوگوں کی طرح ہی زندگی گزارنا چاہتے ہیں، ہمیں موقع تو دیں۔'انہوں نے کہا کہ 'جو حالات 5 اگست سے آج تک کشمیر میں بنے ہوئے ہیں، اگر ایسے ہی حالات ہندوستان کی کسی بھی ریاست میں بنائے جائیں تو لوگوں کا جینا دشوار ہو جائے گا۔

وہیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیتا رام یچوری نے کہا کہ 'ہم نے کورٹ کو بتایا کہ کشمیر میں تو عدالت تک بھی رسائی ممکن نہیں ہے، اس پر چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ 'اگر ایسا ہے تو میں خود کشمیر کا دورہ کروں گا اور حالات کا جائزہ لوں گا۔'واضح رہے کہ تاریگامی کو 4 اگست سے ان کی گپکار روڈ پر واقع سرکاری رہائش گاہ میں نظر بند کیا گیا تھا لیکن یچوری کی عرضی پر انہیں سپریم کورٹ کی ہدایت پر دہلی کے ایمز میں علاج کے لیے منتقل کر دیا گیا۔تاریگامی 1996 سے مسلسل جنوبی کشمیر کے کولگام اسمبلی حلقے سے نمائندگی کرتے آئے ہیں۔

Loading...