کٹھوعہ واقعہ: 8 سال کی بچی سے ریپ اور قتل کے معاملہ میں عدالت کا فیصلہ آج

کٹھوعہ عصمت دری اور قتل معاملہ میں سپریم کورٹ کے احکامات پر 31 مئی 2018ء کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ میں کیس کی 'ان کیمرہ' اور روزانہ کی بنیاد پر سماعت شروع ہوئی تھی۔

Jun 10, 2019 08:59 AM IST | Updated on: Jun 10, 2019 09:20 AM IST
کٹھوعہ واقعہ: 8 سال کی بچی سے ریپ اور قتل کے معاملہ میں عدالت کا فیصلہ آج

کٹھوعہ واقعہ: 8 سال کی بچی سے ریپ اور قتل کے معاملہ میں عدالت کا فیصلہ آج

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت  پٹھان کوٹ آج  صبح دس بجے وحشیانہ کٹھوعہ عصمت دری وقتل کیس کا فیصلہ سنا سکتی ہے۔ کیس کی 'ان کیمرہ' اور 'روزانہ بنیادوں' پر سماعت تقریبا ایک سال تک جاری رہنے کے بعد 25 مئی کو اختتام پذیر ہوئی اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج ڈاکٹر تجویندر سنگھ نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے 10 جون کو فیصلہ سنانے کا امکان ظاہر کیا تھا۔

عدالتی ذرائع نے بتایا کہ کیس کے آٹھ میں سے سات ملزمان کا فیصلہ امکانی طور پر پیر کو سنایا جائے گا جبکہ آٹھواں ملزم جو کہ نابالغ ہے، اس کے خلاف ٹرائل عنقریب جوینائل کورٹ میں شروع ہوسکتی ہے۔ انتظامیہ نے فیصلہ سامنے آنے کے پیش نظر پٹھان کوٹ عدالت کے اردگرد اور کٹھوعہ و جموں میں سیکیورٹی بڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

سپریم کورٹ کے احکامات پر 31 مئی 2018ء کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ میں کیس کی 'ان کیمرہ' اور روزانہ کی بنیاد پر سماعت شروع ہوئی تھی۔ اس دوران عدالت میں کیس کی تقریبا 275 سماعتیں ہوئیں اور 132 افراد عدالت میں بطور گواہ پیش ہوئے۔

استغاثہ کی طرف سے کیس کی پیروی اسپیشل پبلک پراسیکیوٹرس سنتوک سنگھ بسرا اور جگ دیش کمار چوپڑا نے کی جبکہ انہیں متعدد دیگر وکلاء بشمول کے کے پوری، ہربچن سنگھ اور مبین فاروقی (متاثرہ بچی کے والد کے ذاتی وکیل) انہیں اسسٹ کررہے تھے۔ ملزمان کی طرف سے کیس کی پیروی اے کے ساونی، سوباش چندر شرما، ونود مہاجن اور انکر شرما نے کی۔

Loading...

Loading...