کٹھوعہ معاملہ: بچی کیوں نہیں لگاسکی مدد کی آواز، فورنسک ماہرین نے کہا "جبراً دی گئی تھی بہت زیادہ نشہ آور گولیاں"۔

فورنسک ماہرین نے کہا ہے کہ کٹھوعہ میں اس سال جنوری میں 8 سالہ لڑکی سے عصمت دری سے قبل اسے جبراً نیند کی کافی گولیاں دی گئیں، جس کی وجہ سے وہ کوما میں چلی گئی۔

Jun 24, 2018 10:04 PM IST | Updated on: Jun 24, 2018 10:07 PM IST
کٹھوعہ معاملہ: بچی کیوں نہیں لگاسکی مدد کی آواز، فورنسک ماہرین نے کہا

سری نگر: فورنسک ماہرین نے کہا ہے کہ کٹھوعہ میں اس سال جنوری میں 8 سالہ لڑکی سے عصمت دری سے قبل اسے جبراً نیند کی کافی گولیاں دی گئیں، جس کی وجہ سے وہ کوما میں چلی گئی۔ ملزمین نے بچی کو منارکینڈی (اسے مقامی گانجا سمجھا جاتا ہے) اور ایپٹرل 0.5 ایم جی گولیاں کھلائی تھیں، اس معاملے کی جانچ کررہی جموں وکشمیر پولیس کی کرائم برانچ نے نشیلی دواوں کے اثر کی جانچ کرنے کے لئے بچی کا سیمپل وسرا فورنسک لیب میں بھیجا تھا۔

حال ہی میں کرائم برانچ کو ملی رپورٹ میں ماہرین نے کہا ہے کہ 8 سال کی لڑکی کو دی گئی گولیوں سے ممکنہ طور پروہ صدمے کی حالت میں یا کوما میں چلی گئی۔ کرائم برانچ نے میڈیکل ماہرین سے 8 سالہ لڑکی کواس کے خالی پیٹ رہنے کے دوران دی گئی ان دوائیوں کے ممکنہ اثر کے بارے میں دریافت کیا تھا۔

Loading...

کرائم برانچ نے تب تفصیلی رائے جاننے کا فیصلہ کیا جب عدالت میں ملزمین اور ان کے وکیلوں نے اورسوشل میڈیا پر ان کے حامیوں نے دعویٰ کیا کہ یہ تقریباً ناممکن ہے کہ لڑکی پر حملہ ہورہا ہو اوروہ چلائی نہ ہو۔ وسرا کے جانچ کرنے کے بعد ڈاکٹروں نے کہا کہ لڑکی کو جو دوا دی گئی تھی، اس میں کلوناجیپام سالٹ تھا اور اسے مریض کے عمر اور وزن کو دھیان میں رکھ کر طبی نگرانی میں ہی دی جاتی ہے۔

طبی رائے میں کہا گیا ہے "اس کے (متاثرہ کے) 30 کلو گرام وزن کو دھیان میں رکھتے ہوئے مریض کو تین خوراک میں تقسیم  کرکے فی دن 0.1 سے 0.2 ایم جی دوا دینے کی سفارش کی جاتی ہے"۔ اس میں کہا گیا ہے "اسے 11 جنوری کو زبردستی 0.5 ایم جی کلوناجیپام کی پانچ گولیاں دی گئیں، جو محفوظ مقدارسے بہت زیادہ تھی۔ بعد میں بھی اسے مزید گولیاں دی گئیں۔ زیادہ مقدار کے اشارے اورعلامت نیند، خوف، سمجھ میں کمی، ردعمل کی سرگرمی میں گراوٹ، سانس کی رفتار میں کمی یا رکاوٹ، کوما اور موت بھی ہوسکتی ہے"۔

طبی رائے کے مطابق کلوناجیپام دوا لینے کے تقریباً ایک سے ڈیڑھ گھنٹے میں خون میں مل جاتی ہے، چاہے اسے کھانے کے ساتھ لیا جائے یا اس کے بغیر۔ یہ رپورٹ آئندہ ہفتے پٹھان کوٹ کی ضلع اور سیشن عدالت کو سونپی جائے گی۔ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد اس معاملے کی سماعت کٹھوعہ سے پٹھان کوٹ منتقل کردی گئی تھی۔

 

 

ڈاکٹروں نے کہا کہ اگرکلونا جیپام کو الکوہل جیسی دیگر چیزوں کے ساتھ لیا جائے تو خطرہ زیادہ ہوجاتا ہے۔ حالانکہ ڈاکٹرمنارکینڈیج کا کوئی لیبارٹری کی بنیاد پر تجزیہ نہیں دے پائے اورانہوں نے کہا کہ کلونا جیپام کے ساتھ ایسی کسی دیگر دوا کے اثر کے بارے میں تبصرہ کرنا مشکل ہے۔ منار مقامی طور سے دستیاب بھانگ ہے، جو شخص کو کچھ گھنٹے تک بے ہوش رکھتا ہے۔

کٹھوعہ کی 8 سالہ بچی کو 10 جنوری کو اہم ملزم سانجھی رام کے بھتیجے نے اغوا کرلیا تھا اور 14 جنوری کواس کا قتل کردیا گیا۔  تاہم سبھی چیزیں اس کے منصوبہ کے مطابق نہیں ہوپائیں ۔ وہ بچی کا قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کو ہیرانگرنہرمیں پھینکنا چاہتا تھا، لیکن گاڑی کا بندوبست نہیں ہونے کی وجہ سے لاش کو اسی دیوی استھان میں لے آیا، جس کا سانجھی رام سیوادار(خادم) تھا ۔ بعد میں بچی کی لاش 17 جنوری کو جنگل سے برآمد ہوئی۔

تفتیشی افسران کے مطابق سانجھی رام نے اپنے بھتیجا کو اعتراف جرم کیلئے رضامند کرلیا تھا، لیکن بیٹا وشال کو اس سے دور رکھا اوراس کو یقین دہانی کرائی تھی کہ اس کو ریمانڈ ہوم سے جلد ہی باہر نکال لیا جائے گا۔ غور طلب ہے کہ اس معاملہ میں نابالغ کے علاوہ سانجھی رام، اس کا بیٹا وشال اور پانچ دیگر کو ملزم بنایا گیا ہے۔

کرائم برانچ کے ذریعہ دائر چارج شیٹ میں سانجھی رام اور اس کے بھتیجے کے علاوہ اس کے بیٹے وشال، خصوصی پولیس افسران دیپک کھجوریا اور سریندر ورما اور دوست پرویش کمارعرف منو کے نام درج ہیں۔

اس میں کانسٹبل تلک راج اور سب انسپکٹر آنند دتہ کے بھی نام ہیں، جن پر سانجھی رام سے چار لاکھ روپئے رشوت لینے اور ثبوت مٹانے کا الزام ہے۔ پٹھان کوٹ کی ضلع اور سیشن عدالت نے 8 جون کو 7 ملزمین کےخلاف عصمت دری اور قتل کے الزامات طے کئے تھے۔

 

Loading...