உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کٹنی ایس پی کے خط میں سکھ اور مسلمانوں کو لکھا گیا دہشت گرد

    واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کے گورنر منگو بھائی پٹیل سات دسمبر کو کٹنی کے دورے پر آئے تھے۔گورنر کی آمد کے موقع پر سیکوریٹی انتظامات کو لیکر کٹنی ایس پی سنیل جین کے ذریعہ سات دسمبر کو خط جاری کیا تھا۔

    واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کے گورنر منگو بھائی پٹیل سات دسمبر کو کٹنی کے دورے پر آئے تھے۔گورنر کی آمد کے موقع پر سیکوریٹی انتظامات کو لیکر کٹنی ایس پی سنیل جین کے ذریعہ سات دسمبر کو خط جاری کیا تھا۔

    واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کے گورنر منگو بھائی پٹیل سات دسمبر کو کٹنی کے دورے پر آئے تھے۔گورنر کی آمد کے موقع پر سیکوریٹی انتظامات کو لیکر کٹنی ایس پی سنیل جین کے ذریعہ سات دسمبر کو خط جاری کیا تھا۔

    • Share this:
    مدھیہ پردیش کے ضلع کٹنی کے ایس پی کے ایک خط نے سیاسی اور سماجی سطح پر طوفان کھڑا کردیا ہے ۔پولیس سپرنٹنڈنٹ کے خط میں سکھ اور مسلمانوں کو دہشت گردوں کے زمرے میں رکھا گیا ہے ۔سیاسی اور سماجی سطح پر ہنگامہ آرائی کے بعد ایس پی کے ذریعہ اس معاملے میں صفائی دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسا دھوکہ سے ہوا ہے اور متعلقہ کلرک کو اس تعلق سے  شوکاز نوٹس جاری کیاگیا ہے ۔ واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کے گورنر منگو بھائی پٹیل سات دسمبر کو کٹنی کے دورے پر آئے تھے۔گورنر کی آمد کے موقع پر سیکوریٹی انتظامات کو لیکر کٹنی ایس پی سنیل جین کے ذریعہ سات دسمبر کو خط جاری کیا تھا۔ خط میں جاری رہبر ہدایت کے کالم نمبر چھ میں لکھا گیا ہے کہ سکھ،مسلمان ،جے کے ایل ایف،الفا،سمی،ایل ٹی ٹی ای دہشت گردوں پر سخت نظر رکھی جائے ۔خط میں لکھی گئی سطر کو لیکر کانگریس نے اپنے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ایس پی کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔سینئر کانگریس لیڈر و سابق سی ایم مدھیہ پردیش دگ وجے سنگھ نے اس تعلق سے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کٹنی ایس پی کے خط کی نہ صرف مذمت کی بلکہ حکومت سے ان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔
    وہیں دوسری جانب مدھیہ پردیش مائنا رٹیز یونائٹیڈ آرگنائزیشن کے سکریٹری عبد النفیس نے کٹنی ایس پی کے معاملے میں مدھیہ پردیش حکومت سے سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ عبد النفیس کہتے ہیں کہ کٹنی ایس پی سنیل جین کا بیان نہ صرف اخلاقیات کے خلاف ہے بلکہ آئین کی روح کے بھی مخالف ہے ۔

    نیوزایٹین اردو پر خبر نشر ہونے کے بعد ایس پی نے بھلے ہی اس سلسلہ میں اپنی معذرت کا اظہار کر لیا ہے لیکن ایسے افسران کے خلاف سخت کاروائی کی جانا چاہیے تاکہ آئیندہ کوئی افسر کوئی قوم کے خلاف سرکاری دستاویز میں ایسے جملے کا استعمال نہ کر سکے ۔


    وہیں کٹنی ایس پی سنیل جین نے معاملے پر اپنے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا غلطی سے ہوا ہے اور متعلقہ کلرک کو شو کاز نوٹس جاری کیاگیا ہے۔جبکہ ایڈیشنل ایس پی منوج کیڈیا کہتے ہیں کہ اس میں متعلقہ مذہب کے الگ الگ گروپ سے مطلب تھا۔دھوکہ سے ٹائپ کرتے وقت گروپ لفظ رہ گیا ہوگا۔انہوں نے خط کے لئے پولیس انتظامیہ کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا اور ایسی غلطی نہیں ہونے کا بھی یقین دلایا ۔

    وہیں مسلم اور سکھ سماجی تنظیمیں اس معاملے میں ایس پی کے ذریعہ افسوس کے اظہار کو نا کافی مانتے ہوئے ایس پی کے خلاف کاروائی کے مطالبہ پر اڑی ہوئی ہیں ۔
    قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: