ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

2020 میں کیرالہ میں ہوئی مسلم شخص اور عیسائی خاتون کی شادی ، اب چرچ نے ٹھہرایا غیرقانونی

بین مذاہب شادی کو فروغ دینے کیلئے چرچ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ ان تنازعات کے بعد سائرو مالابار چرچ آرک بشپ مار جارج ایلین چیری نے تین رکنی چرچ پینل کے ذریعہ شادی پروگرام کے معاملہ کی جانچ کا حکم دیا تھا ۔

  • Share this:
2020 میں کیرالہ میں ہوئی مسلم شخص اور عیسائی خاتون کی شادی ، اب چرچ نے ٹھہرایا غیرقانونی
2020 میں کیرالہ میں ہوئی مسلم شخص اور عیسائی خاتون کی شادی ، اب چرچ نے ٹھہرایا غیرقانونی ۔ علامتی تصویر

کیرالہ میں بین مذاہب شادی کا ایک عجب معاملہ سامنے آیا ہے ۔ گزشتہ سال کیرالہ میں ایک مسلم شخص اور عیسائی خاتون نے شادی کی تھی ۔ ان کی شادی وہاں کے پادری نے کرائی تھی ، لیکن اب کیرالہ کے کوچی میں واقع سائرو مالابار چرچ کے تین رکنی جانچ کمیشن نے اس شادی کو غیر قانونی قرار دیدیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی اس شادی کو کرانے والے پادری کے خلاف بھی کارروائی کی سفارش کی ہے ۔


نو نومبر 2020 کو کیرالہ کے کداواںتھرا کے سینٹ جوزیف چرچ میں کوچی کے رہنے والے مسلم شخص اور ارنجلاکوڈا کی رہنے والی عیسائی خاتون کے درمیان شادی ہوئی تھی ۔ اس شادی نے پہلے بھی تنازع کو دعوت دی تھی ۔ اس کی وجہ شادی میں مدھیہ پردیش کے ستنا کے بشپ متھیو نے شرکت کی تھی۔ جب کہ روایت کے مطابق دو الگ الگ مذاہب کے لوگوں کے درمیان ہونے والی شادی میں بشپ شامل نہیں ہوسکتے ۔


اس شادی پروگرام کی ایک تصویر بھی سامنے آئی تھی ، جس میں جوڑا بشپ کے ساتھ کھڑے نطر آرہا تھا ۔ یہ ایک اخبار میں شائع ہوئی تھی ۔ اس کی ہرجانب تنقید کی گئی تھی ۔ اس کے بعد ایک وضاحت نامہ بھی سامنے آیا تھا ، جس میں کہا گیا تھا کہ بشپ کو شادی پروگرام میں شرکت کرنے کا افسوس ہے ۔ ان کی جانب سے کہا گیا کہ انہوں نے دلہن کے کنبہ سے قربت کی وجہ سے ایسا کیا تھا ۔


بین مذاہب شادی کو فروغ دینے کیلئے چرچ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ ان تنازعات کے بعد سائرو مالابار چرچ آرک بشپ مار جارج ایلین چیری نے تین رکنی چرچ پینل کے ذریعہ شادی پروگرام کے معاملہ کی جانچ کا حکم دیا تھا ۔

اس کے بعد معاملہ کی جانچ شروع ہوئی اور اس میں پایا گیا کہ دلہن کے کنبہ نے کینن قانون کی خلاف ورزی کی تھی ۔ اس قانون کے تحت اگر دو مذاہب کے لوگوں کے درمیان شادی ہوتی ہے تو اس کیلئے پہلے ڈایوسیس بشپ سے اجازت لینی ہوتی ہے ، لیکن دلہن کے کنبہ نے ایسا نہیں کیا تھا ۔ اس قانون میں دو مذاہب کے لوگوں کے درمیان شادی کو ڈسپیریٹی آف کلٹ کہا گیا ہے ۔

جانچ رپورٹ میں اس بات کا بھی تذکرہ ہے کہ شادی کے بارے میں ایرناکلم ۔ انگاملی اور ارنجلاکوڈا علاقہ کے بشپ کو نہیں بتایا گیا تھا ۔ اس کی بجائے دلہن کے کنبہ کو صرف کوجکٹوسیر چرچ کے پادری سے ایک خط ملا تھا ۔ یہ دلہن کے کنبہ کا علاقہ تھا ۔ اس نے پروگرام منعقد کرنے کی اجازت کے طور پر سینٹ جوزیف چرچ کو یہ خط سونپ دیا تھا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jan 05, 2021 02:30 PM IST