உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Shocking: باپ کی بربریت، گھر میں سوئے بیٹے و بہو سمیت دو پوتیوں کو زندہ جلایا، اندر کا دل دہلادینے والا منظر دیکھ کر پولیس کے بھی اڑے ہوش!

    آگ لگنے کی علامتی تصویر ۔

    آگ لگنے کی علامتی تصویر ۔

    Crime in Kerala: پولیس نے کہا کہ گھر کے اندر کا منظر دل دہلادینے والا تھا ، کیونکہ والد اور سب سے چھوٹی بیٹی کے جسم ایک دوسرے سے کس کر گلے لگے تھے ۔ مزید تفتیش کیلئے لاشوں کو الگ کرنا ہمارے کافی مشکل تھا ۔

    • Share this:
      اڈوکی : کیرالہ میں ایک دل دہلادینے والی واردات سامنے آئی ہے ۔ اڈوکی علاقہ میں ایک سن رسیدہ شخص نے اپنے بیٹے اور اہل خانہ کے تین اراکین کو گھر میں مبینہ طور پر جائیداد تنازع کو لے کر آگ لگا دی ۔ پولیس نے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ ہفتہ کی صبح کو پیش آیا ۔ اس واقعہ کے بعد 79 سال کے ملزم حامد کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے ۔ نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو پولیس نے بتایا کہ اس واقعہ میں گھر کے اندر سو رہے بیٹے ، بہو اور دو پوتیوں کی جل کر موت ہوگئی ۔ 79 سالہ حامد نے گھر میں تالا لگا کر پھر باہر سے کھڑکی کے ذریعہ گھر کے اندر پٹرول سے بھری چھوٹی بوتلیں پھینک دیں اور اس نے بعد اس نے گھر میں آگ لگادی ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : باپ اور بھائی نے کی آبروریزی، دادا کرتا تھا چھیڑ چھاڑ، نابالغ نے اسکول میں بتائی آب بیتی تو سبھی کی کانپ گئی روح!


      اس دوران کنبہ کے ایک رکن نے آگ دیکھ کر مدد کیلئے لوگوں کو بلایا ، لیکن بھیانک آگ ہونے کی وجہ سے پڑوسی انہیں نہیں بچا سکے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے مکان کو پوری طرح سے اپنی زد میں لے لیا ۔ پولیس نے کہا کہ ایک پڑوسی نے حامد کو گھر کے اندر پٹرول کی بوتلیں پھینکتے ہوئے دیکھا تھا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : شعیب اختر ہوئے موجودہ دور کی کرکٹ سے مایوس، ICC کو دئے یہ بڑے مشورے


      سینئر پولیس افسر نے کہا کہ یہ ایک منصوبہ بند قتل تھا ، کیونکہ حامد نے اپنا جرم کرنے کیلئے کم سے کم پانچ بوتلوں میں پٹرول جمع کیا تھا اور آگ بجھانے کی کسی بھی ممکنہ کوشش کو روکنے کیلئے گھر میں پانی کی ٹنکی بھی خالی کردی تھی ۔ انہوں نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو بتایا کہ ملزم حامد نے مدد کیلئے پڑوسیوں کو کنویں سے پانی لانے سے روکنے کیلئے بالٹی اور رسی کو بھی ہٹادیا تھا ۔

      پولیس نے کہا کہ گھر کے اندر کا منظر دل دہلادینے والا تھا ، کیونکہ والد اور سب سے چھوٹی بیٹی کے جسم ایک دوسرے سے کس کر گلے لگے تھے ۔ مزید تفتیش کیلئے لاشوں کو الگ کرنا ہمارے کافی مشکل تھا ۔ پوچھ گچھ کے دوران حامد نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے بیٹے کے ساتھ جائیداد کے جھگڑے کی وجہ سے اس گھنونی واردات کو انجام دیا ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: