ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کیرالاہائی کورٹ نےلکشادیب ڈویولپمنٹ اتھارٹی ریگولیشن2021 پرعمل آوری پرروک لگانےسےکیاانکار

لکشادیپ انتظامیہ کو ضابطے سے متعلق عوامی مفادات کی قانونی چاره جوئی کا جواب دو ہفتوں تک دینے کی اجازت دی گئی ہے۔جسٹس کے ونود چندرن اور جسٹس ایم آر انیتا کے ڈویژن بنچ نے کیرل کانگریس کے صدر کے پی نوشاد علی کی طرفسے پیش کرده ایک عرضی پر سماعت کی

  • Share this:
کیرالاہائی کورٹ نےلکشادیب ڈویولپمنٹ اتھارٹی ریگولیشن2021 پرعمل آوری پرروک لگانےسےکیاانکار
کیرالا ہائی کور ٹ

کیرالا ہائی کورٹ نے آج مسوده لکشادیپ ڈویولپمنٹ اتھارٹی ریگولیشن 2021(LDAR) پر عمل آوری کو روکنے سے انکار کردیاہے۔ جس کے لکشادیپ انتظامیہ کو ضابطے سے متعلق عوامی مفادات کی قانونی چاره جوئی کا جواب دو ہفتوں تک دینے کی اجازت دی گئی ہے۔جسٹس کے ونود چندرن اور جسٹس ایم آر انیتا کے ڈویژن بنچ نے کیرل کانگریس کے صدر کے پی نوشاد علی کی طرفسے پیش کرده ایک عرضی پر سماعت کی ، اس عرضداشت میںلکشادیپ جزیرے پر متعارف کرایا گیا ایل ڈی اے آر اور انسدادسماجی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (LDAR) کو چیلنج کیا تھا۔(مزیدتفصیلات کا انتظار ہے)۔۔۔


لکشادیپ کا پش منظر:


لکشادیپ ہندوستان کا نہایت تعلیم یافتہ اور ماحول دوست (Environment-friendly) علاقہ ہے۔ یہ مرکز کے زیر انتظام (Union territory) علاقہ ہے۔ یہ علاقہ 35 مختلف چھوٹے چھوٹے جزیروں (Islands) کا مجموعہ ہے۔ جس کا مکمل علاقہ 32.62 اسکاؤر فٹ ہے۔ سنہ 2011 کے مردم شماری کے مطابق یہاں کی آبادی 60 سے 70 ہزار کے درمیان ہے۔


لکشادیپ میں ہر طرف پیڑ ہی پیڑ اور ندیاں نظر آتی ہیں۔ یہاں کی 99 سے زائد فیصد آبادی مسلمانوں پر متشمل ہے۔ یعنی یہاں مسلمانوں کو اکثریت کا درجہ حاصل ہے۔ جن کا تعلیم کے ساتھ ساتھ معیار زندگی (Standard of living) بھی بہت بلند ہے۔ یہاں جرائم نہیں کے برابر ہوتے ہیں، کیونکہ سبھی لوگ خوش حال ہیں۔

لکشادویپ کو بچانے کے مہم (Save Lakshadweep campaign) کے تحت ہونے والے مظاہروں میں اس مہم کی حمایت کرنے والی کئی اہم اور نمایاں شخصیات بھی آگی آچکی ہیں۔ جزیرے کی صورتحال کیا ہے؟ یہ سمجھنے کے لئے یہاں تفصیلات پیش ہیں:

آخر مسئلہ کیا ہے؟

گجرات کے وزیر داخلہ کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے بی جے پی کے سابق رہنما اور لکشادیپ کے ایڈمنسٹریٹر پرفل پٹیل نے نئی اصلاحات کا اعلان کیا جس سے مقامی لوگوں اور پڑوسی ریاست کیرالہ میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔اس سے قبل یہاں یہ ہوتے رہا ہے کہ کسی سیاسی رہنما کے بجائے باصلاحت اور قابل سیول سروٹ کو یو ٹی کا ذمہ دار بنایا جاتا تھا۔ اب اس روایت کو ختم کر کے پرفل پٹیل جیسے سیاسی پس منظر والے شخص کو یہاں کا منتظم (Administrator) بنایا گیا ہے۔ جن کا تعلق بی جے پی سے ہے اور یہ وزیراعظم نریندر مودی کے قریبی مانے جاتے ہیں۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: May 28, 2021 12:05 PM IST