ہوم » نیوز » وطن نامہ

کیرالہ میں ڈانس کررہے دو میڈیکل طلبہ کے ویڈیو نے کیوں لے لیا فرقہ وارانہ رنگ ؟ جانئے وجہ

Viral Video: ویڈیو میں دونوں 1978 کے مشہور گانے راس پوتن پر ڈانس کررہے ہیں ۔ ان میں سے ایک طالب کا نام نوین کے رزاق ہے اور دوسری طالبہ کا نام جانکی اوم کمار ہے ۔

  • Share this:
کیرالہ میں ڈانس کررہے دو میڈیکل طلبہ کے ویڈیو نے کیوں لے لیا فرقہ وارانہ رنگ ؟ جانئے وجہ
کیرالہ میں ڈانس کررہے دو میڈیکل طلبہ کے ویڈیو نے کیوں لے لیا فرقہ وارانہ رنگ ؟ جانئے وجہ ۔ (pic- social media)

نئی دہلی : سوشل میڈیا (Social Media) پر ڈانس والے کئی ویڈیوز وائرل  (Viral Video) ہوتے رہتے ہیں ۔ انہیں لوگ کافی پسند بھی کرتے ہیں ۔ ایسا ہی ایک ویڈیو گزشتہ دنوں سامنے آیا ۔ یہ ویڈیو کیرالہ کے دو میڈیکل اسٹوڈینٹس کے ڈانس کا ہے ۔ ویڈیو میں دونوں 1978 کے مشہور گانے راس پوتن پر ڈانس کررہے ہیں ۔ ۔ ان میں سے ایک طالب کا نام نوین کے رزاق ہے اور دوسری طالبہ کا نام جانکی اوم کمار ہے ۔ دونوں تریشور میڈیکل کالج کے طالب علم ہیں ۔ ڈانس ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دونوں ہی انٹرنیٹ سنسیشن بن گئے ہیں ۔ دونوں نے یہ ویڈیو کالج کمپلیکس میں ہی بنایا ہے ۔


اس ڈانس ویڈیو کو سب سے پہلے 23 مارچ کو انٹرنیٹ پر ڈالا گیا تھا ۔ یہ لوگوں کو اتنا پسند آیا کہ انہوں نے اس کو بڑی تعداد میں شیئر کیا اور ہزاروں مرتبہ اس کو دیکھا جاچکا ہے ، لیکن ان سب کے درمیان گزشتہ دو دنوں سے کچھ لوگ اس ویڈیو کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ایسا اس ویڈیو میں نظر آرہے لڑکے کے نام کی وجہ سے ہے ۔ اس کا نام نوین کے رزاق ہے ۔




 




View this post on Instagram





 

A post shared by Naveen K Razak (@naveen_k_razak)





اس ڈانس ویڈیو کے سلسلہ میں لوگ ٹویٹر اور فیس بک پر بھی لکھ رہے ہیں ۔ کرشنا راج نام کے ایک فیس بک یوزر نے لکھا : جانکی اور نوین تریشور میڈیکل کلاج کے ان دونوں اسٹوڈینٹس کا ڈانس ویڈیو کافی وائرل ہوگیا ہے ۔ اس کا پورا نام جانکی اوم کمار اور نوین کے رزاق ہے ، اس میں کچھ شک ضرور ہے ۔ اچھا ہوگا کہ جانکی کے سرپرست زیادہ محتاط رہیں ۔

فیس بک پر ہوئی اس پوسٹ کے بعد لوگوں کے درمیان بحث چھڑ گئی ہے ۔ لوگ اب یہ طے کررہے ہیں کہ وہ اسٹوڈینٹس کی حمایت کریں یا پھر کرشنا راج کی ۔ حالانکہ کچھ لوگ کرشنا راج کی بات سے متفق نظر آرہے ہیں ۔ وہ لکھتے ہی کہ اس ویڈیو کو مسلمانوں کی جانب سے بنایا اور وائرل کیا گیا ہے ۔ یہ سوچی سمجھی سازش ہے ۔

حالاکہ سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں لوگ دونوں اسٹوڈینٹس کے ساتھ کھڑے نظر آرہے ہیں ۔ جمعہ کو کالج یونین نے اس کے گانے پر کئی اور ویڈیوز بھی بنائے ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مخالفین سے کہا : اگر آپ کا ارادہ نفرت پھیلانے کا ہے تو ہم نے طے کرلیا ہے کہ ہم رکاوٹ ڈالیں گے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 12, 2021 09:05 AM IST