உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    انتخابات سے پہلے بڑھے گی مصیبت؟ کیشو پرساد موریہ کی ڈگری کا معاملہ پہنچا ہائی کورٹ، نچلی عدالت کے حکم کو چیلنج

    اترپردیش کے نائب وزیراعلیٰ کیشو پرساد موریہ۔ (فائل فوٹو)

    اترپردیش کے نائب وزیراعلیٰ کیشو پرساد موریہ۔ (فائل فوٹو)

    دراصل، ہائی کورٹ میں دائر عرضی میں اے سی جے ایم پریاگ راج کے 4 ستمبر 2021 کے حکم کو چیلنج دیا گیا ہے۔ اُس حکم میں مجسٹریٹ نے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم جاری کرنے سے انکار کردیا تھا اور عدالت نے دفعہ 156(3) ضابطہ فوجداری کے تحت دائر درخواست خارج کر دی گئی۔

    • Share this:
      پریاگ راج: اُترپردیش اسمبلی انتخابات (Uttar Pradesh assembly Elections) کے لئے سیاسی ماحول بن گیا ہے ایسے میں یو پی (Uttar Pradesh News) کے ڈپٹی سی ایم کیشو پرساد موریہ (Keshav Prasad Maurya) سے جڑی بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ کیشو پرساد موریہ کی ڈگری کا معاملہ اب ہائی کورٹ تک جا پہنچا ہے۔ ڈپٹی سی ایم کیشو پرساد موریہ (Keshav Prasad Maurya News) کی ڈگری کو لے کر مجسٹریٹ کے حکم کے خلاف ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ہے، جس پر 3 فروری کو سماعت ہوگی۔ مجسٹریٹ کے روبرو فرضی ڈگری کی شکایت کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کرانے کا حکم جاری کرنے کی مانگ کی گئی تھی۔

      دراصل، ہائی کورٹ میں دائر عرضی میں اے سی جے ایم پریاگ راج کے 4 ستمبر 2021 کے حکم کو چیلنج دیا گیا ہے۔ اُس حکم میں مجسٹریٹ نے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم جاری کرنے سے انکار کردیا تھا اور عدالت نے دفعہ 156(3) ضابطہ فوجداری کے تحت دائر درخواست خارج کر دی گئی۔

      یہ عرضی بی جے پی سے نکالے گئے دیواکر ناتھ ترپاٹھی کی جانب سے داخل کی گئی ہے۔ درخواست گزار کا الزام ہے کہ یوپی بورڈ کے سکریٹری نے بتایا ہے کہ ہندی ادب میلہ پریاگ راج کی پرتھم، مدھیما، وشارد کی ڈگری ہائی اسکول کے برابر درست نہیں ہے۔ کیشو موریہ نے اس ڈگری کی بنیاد پر آگے کی تعلیم حاصل کی جو کہ غیر قانونی ہے اور جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ جسٹس راجیو گپتا کی سنگل بنچ میں سماعت ہوئی۔

      یوپی انتخابات کا پروگرام
      بتادیں کہ اُترپردیش کی 403 اسمبلی سیٹوں کے لئے سات مرحلوں میں رائے دہی 10 فروری سے شروع ہوگی۔ اُترپردیش میں دیگر مرحلوں میں انتخابات 14,20,23,27 فروری، 3 اور 7 مارچ کو ہوں گے۔ وہیں یو پی الیکشن کے نتیجے 10 مارچ کو آئیں گے۔ 2017کے الیکشن میں بی جے پی نے یہاں کی 403 سیٹوں میں سے 325 سیٹوں پر جیت حاصل کی تھی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: