ہوم » نیوز » وطن نامہ

ہجومی تشدد معاملہ: چندولی کے خالد انصاری کی موت۔ جے شرم رام نہ کہنے پرشرپسندوں نے لگائی تھی آگ

ہجومی تشدد کا تازہ معاملہ یوپی کے چندولی کا ہے جہاں چار شرپسندوں نےایک نوجوان کو جے شری رام نہیں کہنے پر آگ کے حوالے کردیا۔ ستر فیصد جلی حالت میں نوجوان کو بنارس کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا- جہاں اس نے دم توڑ دیا۔

  • Share this:
ہجومی تشدد معاملہ: چندولی کے خالد انصاری کی موت۔ جے شرم رام نہ کہنے پرشرپسندوں نے لگائی تھی آگ
علامتی تصویر

جومی تشدد کا تازہ معاملہ یوپی کے چندولی کا ہے جہاں چار شرپسندوں نےایک نوجوان کو جے شری رام نہیں کہنے پر آگ کے حوالے کردیا۔ ستر فیصد جلی حالت میں نوجوان کو بنارس کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا- جہاں اس نے دم توڑ دیا۔بتایاجارہاہے کہ نوجوان علی الصبح بیت الخلا کے لئے گھر سے باہر گیاتھا۔ تبھی سنیل نامی شخص اور اس کے ساتھیوں نے اس کو پکڑلیا اور جے شری رام کا نعرہ لگانے کو مجبور کیا۔اہل خانہ کی مانیں توروزانہ کی طرح کل صبح بھی نوجوان خالد قضائے حاجت کےلئے گیاتھا، لیکن نصف گھنٹےسےزیادہ وقت گزرنے کے بعد تک گھرنہیں پہنچا۔ تواہل خانہ اسے دیکھنے کے لئے نکلے۔ تبھی اچانک متاثرشخص خالد انصاری بھاگتے ہوئےگھرپہنچا۔جس سے اہل خانہ میں کہرام مچ گیا۔ اہل خانہ نے آناً فاناً میں پولیس کواطلاع دی تھی


دراصل چندولی ضلع کےسید راجا کا رہنے والا 16سالہ خالد انصاری کل گھرسے باہرنکلا تھا۔ کچھ ہی دیربعد وہ جلی ہوئی حالت میں واپس گھرلوٹا۔ نوجوان کےذریعہ بتایا گیا کہ اسے کچھ لوگوں نےکیروسین تیل ڈال کرجلانے کی کوشش کی ہے۔ فوراً پولیس کواطلاع دی گئی۔ موقع پرپہنچی پولیس نےنوجوان کوضلع اسپتال میں علاج کے لئے داخل کرایا۔ اس کے بعد نوجوان کووارانسی کےلئے ریفرکردیاگیاتھا۔


پولیس کے مطابق موقع پرپہنچی پولیس نےاسے ضلع اسپتال میں داخل کرایا-جہاں ابتدائی علاج کے بعد اسے وارانسی ریفرکردیا گیاتھا۔نوجوان نیشنل انٹرکالج میں کلاس 9 کا طالب علم ہے۔ اہل خانہ معاملے میں جانچ کا مطالبہ کررہے ہیں۔ وہیں حادثہ کی سنگینی کودیکھتے ہوئے پولیس چھان بین میں مصروف ہوگئی ہے۔ جلے ہوئےنوجوان کے بدلتے بیانات کی بنیاد پرچارگھنٹے تک کرائم سین تلاش کرنےمیں مصروف پولیس کو مقامی اخبار'وکریتا' نے پہلی لیڈ دی۔ اخباروکریتا کےمطابق، اس نےنوجوان کوصبح اس کےگھرکےسامنےمزارسےآگ لگا کربھاگ کرجاتے ہوئے دیکھا تھا۔وہیں ضلع ایس پی کا بھی کہاہے کہ ایک گواہ کا کہناہے کہ خالد انصاری نے خود کو آگ لگائی تھی ۔


پولیس کو موقع سے نہیں ملے ثبوت

پولیس جب موقع پرپہنچی تومزارکے باہرنوجوان کا کپڑا اورچپل بھی ملاہے۔ موقع پرکسی طرح کی مخالفت کےثبوت بھی نہیں ملے ہیں۔ ابتدائی تفتیش کےمطابق نوجوان نے جس جائے حادثہ کے بارے میں بتایا ہے۔اس کے بالکل الٹی سمت میں چارکلومیٹردورایک مزارکے پاس سےاس کے کپڑے ملے ہیں۔ اب پولیس اس معاملے کی تہہ تک پہنچنےکےلئے قانون سائنس لیبارٹری کی ٹیم کوبلاکرفورنسک ثبوتوں کوحاصل کررہی ہے۔ پولیس کےمطابق پہلی نظر میں یہ معاملہ توہم پرستی یا سماجی ہم آہنگی بگاڑنےکی سازش نظرآرہی ہے۔ دونوں پہلو پر پولیس گہرائی سے جانچ کررہی ہے۔
First published: Jul 30, 2019 12:02 PM IST