உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    خواجہ اجمیری کی صلح کل کی تعلیم سے ہوگی ہندوستان کی ترقی

    خواجہ اجمیری کی صلح کل کی تعلیم سے ہوگی ہندوستان کی ترقی

    خواجہ اجمیری کی صلح کل کی تعلیم سے ہوگی ہندوستان کی ترقی

    ہندستان کو صوفیا کا ملک کہا جاتا ہے۔ اہل سلاسل کے بزرگوں نے اپنی تعلیمات سے ہندوستان میں صلح کل کا جو پیغام عام کیا ہے، وہ بے مثل ہے۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ سلطان الہند ہیں اور انہوں نے سرزمین ہند سے صلح کل کا جو پیغام دیا ہے، اسی پر چل کر ہندوستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

    • Share this:
    بھوپال: ہندستان کو صوفیا کا ملک کہا جاتا ہے۔ اہل سلاسل کے بزرگوں نے اپنی تعلیمات سے ہندوستان میں صلح کل کا جو پیغام عام کیا ہے،  وہ بے مثل ہے۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ سلطان الہند ہیں اور انہوں نے سرزمین ہند سے صلح کل کا جو پیغام دیا ہے، اسی پر چل کر ہندوستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ بھوپال برہما کماری شانتی مشن میں صلح کل اور صوفیا کی تعلیم کے عنوان سے مختصر تقریب کا انعقاد کیا گیا اور سلطان الہند کے آٹھ سو دسویں عرس کے لئے مرادوں کی چادر روانہ کی گئی۔
    برہماکماری شانتی مشن بھوپال کی روح رواں نیتا برہما کماری کہتی ہیں کہ آج یہاں سے مرادوں کی چادر اجمیر کے لئے روانہ کی گئی ہے۔ پرماتما سے دعا ہے کہ سبھی کی مرادوں کو پوری کرے۔ پرماتما سبھی کی مشکلات کو دور کرے۔ ساری دنیا میں خوشی آئے ہیں یہی خواہش ہے۔
    سماجی کارکن مہیندر شرما کہتے ہیں کہ ہندوستان صوفیا کا ملک ہے اور خواجہ تو سلطان الہند ہیں۔ خواجہ نے اجمیر سے صلح کل کا جو پیغام دیا ہے، سچ پوچھئے تو اسی میں ہندوستان کی ترقی کا راز مضمر ہے۔ بھوپال سے ہر سال اجمیر خواجہ کے آستانہ کے لئے مرادوں کی چادر روانہ ہوتی ہے، لیکن اس بار برہما کمری شانتی مشن سے کی گئی ہے۔ دنیا سے کورونا کی بیماری کا خاتمہ ہو اور آج عالمی یوم کینسر ہے۔ کینسر کی بیماری کا خاتمہ ہو اور سبھی خوشحال ہوں اس مراد کے ساتھ یہ چادر روانہ کی جارہی ہے۔

    سلطان الہند کے آٹھ سو دسویں عرس کے لئے مرادوں کی چادر روانہ کی گئی۔
    سلطان الہند کے آٹھ سو دسویں عرس کے لئے مرادوں کی چادر روانہ کی گئی۔


    عیسائی سماج کے مذہبی رہنما فادر آنند نے بھی پروگرام میں شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا میں جس طرح سے نفرتیں عام ہو رہی ہیں، اسے ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپسی اتحاد کو فروغ دیا جائے اور اتحاد کا یہ سبق  صوفیا کے آستانوں سے ہی ملتا ہے۔
    سرو دھرم سدبھاؤنا منچ کے سکریٹری حاجی عمران نے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جب دنیا بارود کے ڈھیر پر بیٹھی ہوئی ہے، ایسے میں صرف صوفیا کی تعلیم ہی ایسی ہے جو دنیا کو نفرت سے بچا سکتی ہے۔ خواجہ نے سینکڑوں سال پہلے اجمیری کی سرزمین سے جو محبت و یکجہتی کا پیغام دیا تھا، اس کی معنویت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ برہما کماری شانتی مشن کے زیر اہتمام پروگرام کا انعقاد کرکے خواجہ کے آستانہ عالیہ کے لئے جو چادر روانہ کی گئی ہے، وہ قابل تحسین قدم ہے اور اسی کی ہندوستان کو ضرورت ہے۔
    سماجی کارکن سندیپ دکشت نے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب دہلی میں تھے تو دوڑ دوڑ کر اجمیر چادر بھیجا کرتے تھے اور آج بھوپال آئے تھے اور جب معلوم ہوا کہ کہ خواجہ کے آستانہ کے لئے چادر روانہ ہو رہی ہے، تو دوڑا دوڑا چلا آیا۔ اجمیر میں ہی ہندوستان کا صحیح معنوں میں درشن ہوتا ہے۔ اجمیر میں نہ صرف مذہب کی تفریق ختم ہوتی ہے بلکہ وہاں پر ہر سو ایک ہی سبق ملتا ہے محبت محبت محبت۔ برہما کماری شانتی مشن کے زیر اہتمام منعقدہ پروگرام کے آخری حصہ میں سماجی خدمت کے ذریعہ سماجی کی ترقی کی راہ ہموار کرنے والی معزز شخصیات کو اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: