ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

مغربی بنگال: ممتا نے دیا زخم، بی جے پی کے ٹکٹ پر جیتے مکل رائے کو بنا دیا پی اے سی کا چیئرمین

بی جے پی (BJP) کے ٹکٹ پر اسمبلی انتخابات جیتنے کے بعد حال میں برسراقتدار ترنمول کانگریس (trinamool congress) میں لوٹے سینئر لیڈر مکل رائے (Mukul Roy) کو جمعہ کو اسمبلی اسپیکر بمان بنرجی نے لوک لیکھا سمیتی (پی اے سی) کا چیئرمین نامزد کیا۔

  • Share this:
مغربی بنگال: ممتا نے دیا زخم، بی جے پی کے ٹکٹ پر جیتے مکل رائے کو بنا دیا پی اے سی کا چیئرمین
مغربی بنگال: ممتا نے دیا زخم، بی جے پی کے ٹکٹ پر جیتے مکل رائے کو بنا دیا پی اے سی کا چیئرمین

کولکاتا: بی جے پی (BJP) کے ٹکٹ پر اسمبلی انتخابات جیتنے کے بعد حال میں برسراقتدار ترنمول کانگریس (trinamool congress) میں لوٹے سینئر لیڈر مکل رائے (Mukul Roy) کو جمعہ کو اسمبلی اسپیکر بمان بنرجی نے لوک لیکھا سمیتی (پی اے سی) کا چیئرمین نامزد کیا۔ اس فیصلے کے خلاف اپوزیشن لیڈر شوبھندو ادھیکاری کی قیاددت میں بی جے پی اراکین اسمبلی نے اسمبلی سے واک آوٹ کیا۔ کرشنا نگر شمالی سے بی جے پی کے ٹکٹ پر جیت حاصل کرنے والے مکل رائے گزشتہ ماہ ہی ترنمول کانگریس میں شامل ہوئے تھے۔ حالانکہ انہوں نے بی جے پی کے کئی بار کہنے کے باوجود اسمبلی سے استعفیٰ نہیں دیا تھا۔ مکل رائے کو جون میں پی اے سی کا رکن منتخب کیاگیا تھا۔


اپوزیشن لیڈر شوبھندو ادھیکاری نے کہا کہ ضوابط کے مطابق، عام طور پر کسی اپوزیشن کے رکن اسمبلی کو پی اے سی کا چیئرمین منتخب کیا جاتا ہے، لیکن ترنمول کانگریس نے ضوابط کا غلط استعمال کرتے ہوئے مکل رائے کو چیئرمین منتخب کیا گیا۔


مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں اپوزیشن لیڈر شوبھندو ادھیکاری (Shubhendu Adhikari) نے جمعہ کو اسمبلی اسپیکر بمان بنرجی کو ایک عرضی سونپ کر اینٹی ڈیفکشن قانون کے تحت ایوان میں مکل رائے (Mukul Roy) کو ایوان کی رکنیت سے نا اہل قرار دینے کا مطالبہ کیا، جو حال ہی میں بی جے پی (BJP) سے ترنمول کانگریس میں شامل ہوئے ہیں۔ یہ اطلاع بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر نے دی۔ بی جے پی رکن اسمبلی منوج تگا نے کہا، ’ہم نے اسمبلی اسپیکر کو ایک خط سونپا ہے، جس میں رکن اسمبلی مکل رائے کو ایوان کی رکنیت سے نا اہل ٹھہرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن جیتا تھا، لیکن بعد میں ٹی ایم سی میں شامل ہوگئے۔ اس لئے قانون کے مطابق، انہیں استعفیٰ دینا چاہئے۔ ہم نے اسمبلی اسپیکر سے معاملے پر غور کرنے کے لئے کہا ہے۔


 
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 10, 2021 07:48 AM IST