ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

OPINION | ایم ایس پی گارنٹی کسانوں کی پریشانیوں کا واحد حل نہیں

Farmers Agitation: ایم ایس پی اسکیم دہائیوں سے چلی آرہی ہے ۔ اس کے تحت سستے قرض کے ساتھ ساتھ زراعتی قرض معافی ، ٹیکس فری انکم ، بجلی ، کھاد وغیرہ مختلف طرح کی سبسڈی پر پہلے سے ہی کسانوں کو دی جاتی ہے ۔ حالانکہ بڑھتی آبادی نے زمین کے سائز کو کم کردیا ہے اور کسانوں کو بہتر زندگی جینے کیلئے فصلوں پر انحصار کم کرنا چاہئے ۔

  • Share this:
OPINION | ایم ایس پی گارنٹی کسانوں کی پریشانیوں کا واحد حل نہیں
OPINION | ایم ایس پی گارنٹی کسانوں کی پریشانیوں کا واحد حل نہیں

ششانک سوربھ


سردی کے اس موسم میں ملک کی راجدھانی دہلی کا مزاج گرم ہے ۔ نئے زرعی قوانین کی مخالفت میں کسان ملک کی راجدھانی میں ڈٹے ہوئے ہیں ۔ سرکار اور کسانوں کے درمیان پانچ مرتبہ بات بھی ہوچکی ہے ، لیکن کوئی حل نہیں نکل سکا ہے ۔ کسان اپنے مطالبات کو لے کر بضد ہیں اور سرکار زرعی قوانین میں ترمیم کا تجویز پیش کرکے کسانوں کو منانے کی کوشش کررہی ہے ۔ زرعی قوانین کی واپسی کے علاوہ کسانوں کی ایک اہم مانگ ایم ایس پی کو لے کر بھی ہے ۔ کسان چاہتے ہیں کہ سرکار ایم ایس پی سے کم قیمت پر خریداری کو جرم قرار دے اور ایم ایس پی پر سرکاری خرید لاگو رہے ۔


یہ المیہ ہے کہ سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس نے لوک سبھا الیکشن 2019 میں اپنے انتخابی منشور میں زرعی قوانین میں اصلاحات کا وعدہ کیا تھا ۔ کانگریس  نے اس وقت اے پی ایم سی کے گیارہ پوائنٹ میں اور ضروری اشیا ایکٹ 1955 کے 21 پوائٹ میں ترمیم کرنے کی بات کہی تھی ۔ ان کا تذکرہ پارٹی کے انتخابی منشور کے ساتویں چیپٹر میں تھا ۔ اب کانگریس انہیں کی مخالفت کررہی ہے ۔ حالانکہ اس طرح  کی سیاست ہمارے ملک کیلئے کوئی نئی بات نہیں ہے ۔


پنجاب سے کسان یونین اس کی مخالفت میں سب سے زیادہ کھل کر سامنے آئے ہیں ۔ 31 جولائی 2020 کو ریاستوں کی جی ایس وی اے پر آر بی آئی کی رپورٹ کے مطابق فصلوں سے پنجاب کا جی ایس وی اے 76504 کروڑ روپے ہے ۔ وہیں اگر پنجاب کے بقایہ زراعتی قرض کی بات کریں تو یہ اسی مدت کیلئے 66766 کروڑ روپے تھا ۔ زراعتی قرض کی اتنی بڑی مقدار اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ یا تو زراعتی شعبہ میں ویلیو ایڈیشن بہت کم ہے یا سستے زراعتی قرض کا کچھ دیگر مقاصد کیلئے مالدار کسانوں کے ذریعہ غلط استعمال کیا جاتا ہے ۔

کچھ وقت پہلے آر بی آئی کی ایک رپورٹ میں اس حقیقت پر روشنی ڈالی گئی تھی کہ مختلف بینکوں کے ساتھ لون اکاونٹس کچھ ریاستوں میں کل کسانوں سے زیادہ ہیں ۔ یہ ممکنہ قرض سہولت کے غلط استعمال کا اشارہ دیتا ہے ۔ گیہوں اور دھان کیلئے پنجاب کی فی ایکڑ پیداوار دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور اگر ہمارے کسان ابھی بھی اپنے خراب حالات کیلئے حکومت کو قصوروار مانتے ہیں تو اس معاملہ پر ایک بڑی بحث ہونی چاہئے ۔

اس معاملہ کو بہتر طریقہ سے سمجھنے اور کسی نتیجہ پر پہنچنے کیلئے مختلف پہلووں کو ذہن میں رکھنا بھی ضروری ہے ۔ ایم ایس پی کی قانونی ضمانت دینا اس احتجاج کا اصل مقصد ہے ۔ میں اس بات سے بھی متفق ہوں کہ ایم ایس پی کے ذریعہ اعلان شدہ زرعی پیدوار کی خرید کیلئے کارپوریٹس کو اجازت نہیں دی جانی چاہئے ۔ یہ یقینی بنانے کیلئے قانون میں کوئی ترمیم ہونی چاہئے ۔

یہاں یہ بتانا مناسب ہے کہ این ڈی اے حکومت نے 2014 میں ایم ایس پی کے مقابلہ میں مختلف فصلوں کے ایم ایس پی کو تقریبا پچاس فیصدی بڑھا دیا ہے ۔ اب سرکار نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ فصل کی ایم ایس پی پیدوار کی لاگت کا کم از کم ڈیڑھ گنا ہو ۔ ایسے میں کسانوں کے ایم ایس پی سسٹم کو ختم کرنے کے ڈر کی کوئی بنیاد نہیں ہے ، کیونکہ سرکار کو پی ڈی ایس کے توسط سے فوڈ سیکوریٹی ، انفلیشن کنٹرول جیسے دیگر مقاصد کو حال کرنے کیلئے اناج کی خریداری جاری رکھنی پڑتی ہے ۔

جہاں تک ایم ایس پی کے جواز کا سوال ہے تو یہ پہلے سے ہی نیشنل فوڈ سیکورٹی ایکٹ 2013 کے تحت قانون کے دائرے میں ہے ۔ ایم ایس پی کو دفعہ 2 (10) کے تحت ڈیفائن کیا گیا ہے ۔ مرکزی و ریاستی سرکاروں اور اناج کی تقسیم کیلئے مقامی اہلکاروں کے ذمہ داریوں کو مذکورہ قانون کے تحت متعین کیا گیا ہے ۔

اگر ہم زراعت کے آس پاس کے بڑے ایشوز کو دیکھتے ہیں تو پاتے ہیں کہ صرف ایم ایس پی کی ضمانت حل نہیں ہے ۔ اس سے صرف ان کسانوں کو مدد ملتی ہے جن کے پاس بیچنے کیلئے زیادہ اناج ہے ۔ 90 فیصد سے زیادہ کسان سبسسٹینس فارمنگ کررہے ہیں اور وہ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے مطلوبہ پیداوار کررہے ہیں ۔ کسانوں کا ایک چھوٹا طبقہ ہے جو ایم ایس پی اسکیم سے فائدہ حاصل کرتا ہے اور اگر کوئی یہ مانتا ہے کہ کسان کے سبھی بحران کیلئے ایک اونچی ایم ایس پی علاج ہے تو وہ یقینی طور پر اس معاملہ کو نہیں سمجھ پایا ہے ۔

ایم ایس پی اسکیم دہائیوں سے چلی آرہی ہے ۔ اس کے تحت سستے قرض کے ساتھ ساتھ زراعتی قرض معافی ، ٹیکس فری انکم ، بجلی ، کھاد وغیرہ مختلف طرح کی سبسڈی پر پہلے سے ہی کسانوں کو دی جاتی ہے ۔ حالانکہ بڑھتی آبادی نے زمین کے سائز کو کم کردیا ہے اور کسانوں کو بہتر زندگی جینے کیلئے فصلوں پر انحصار کم کرنا چاہئے ۔ مویشی پروری ، باغبانی ، ماہی پروری ، مرغ پالن وغیرہ کے شعبہ میں سرکار کی پہل کو مثبت طور پر لیا جانا چاہئے ۔ اس طرح کی سرگرمیوں سے دیہی کنبوں کی انکم بڑھ سکتی ہے ۔ ہماری اجتماعی کوشش زراعت کے شعبہ سے مزید افرادی قوت کو باہر نکالنے پر ہوگی ۔

ہندوستان ایک عظیم ملک ہے اور کوئی بھی ایک سائز نہیں ہے جو سبھی پر فٹ بیٹھتا ہو ۔ پنجاب کے کسانوں کی پریشانی بہار ، اترپردیش اور آندرا پردیش جیسی ریاستوں سے الگ ہے ۔ ایسے میں اگر اپوزیشن پارٹیوں کو لگتا ہے کہ یہ مظاہرین کی پیٹھ پر بیٹھ کر ملک گیر آندولن کو تیز کرسکتے ہیں تو انہیں اپنی غلط فہمی کیلئے قصوروار ٹھہرایا جانا چاہئے ۔ میں بھی ایک کسان کا بیٹا ہوں ، لیکن میں ان مظاہرین کے ساتھ خود کو نہیں جوڑ سکتا ہوں ۔

بیشک جمہوریت میں سبھی کو پرامن احتجاج کرنے کا اختیار ہے ، لیکن ملک کے ایک منتخب وزیر اعظم کے خلاف بکواس برداشت نہیں کی جانی چاہئے ۔ اناج 'ان' اور کسانوں 'ان داتا' کا ہمارے کلچر میں خاص مقام ہے ۔ کسی کو بھی اسے حاصل کرنے کیلئے وسیلہ کے طور پر کسانوں کا استعمال کرکے اپنے سیاسی ایجنڈہ کو آگے بڑھانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے ۔

(رائٹر پیشہ سے چارٹیڈ اکاونٹنٹ ہیں ۔ یہ ان کے ذاتی خیالات ہیں)
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Dec 14, 2020 12:17 PM IST