உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    غیر معینہ مدت تک چل سکتا ہے کسان آندولن، ختم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں: راکیش ٹکیٹ

    غیر معینہ مدت تک چل سکتا ہے کسان آندولن، ختم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں: راکیش ٹکیٹ

    غیر معینہ مدت تک چل سکتا ہے کسان آندولن، ختم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں: راکیش ٹکیٹ

    Farmers Protest: کسان گزشتہ سال نومبر سے راجدھانی دہلی کی سرحدوں پر نئے زرعی قوانین (New Farm Laws) کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ کسان لیڈر گرنام سنگھ نے کہا تھا کہ کسان آندولن اکتوبر تک جاری رہ سکتا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: مشترکہ کسان محاذ (Samyukt Kisan Morcha) کے لیڈر گرنام سنگھ نے کہا تھا کہ کسان آندولن (Farmers Agitation) اکتوبر تک جاری رہے گا۔ ان کے اس بیان پر بھارتیہ کسان یونین (Bhartiya Kisan Union) کے ترجمان راکیش ٹکیٹ (Rakesh Tikait) نے ردعمل ظاہر کیا ہے۔ راکیش ٹکیٹ نے جمعہ کو واضح کردیا ہے کہ آندولن غیر معینہ مدت تک چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس آندولن کی مدت کو لے کرکسی بھی طرح کی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے۔ دہلی کی سرحدوں پر احتجاج کرتے ہوئے کسانوں کو 79 دنوں کا وقت گزر چکا ہے۔

      نیوز ایجنسی اے این آئی سے بات چیت میں راکیش ٹکیٹ نے کہا ‘کسان آندولن غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا۔ کیونکہ فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ یہ اکتوبر تک جاری رہ سکتا ہے’۔ حالانکہ راکیش ٹکیٹ اس سے پہلے بھی کسانوں کو متنبہ کیا تھا کہ جب تک حکومت تین زرعی قوانین کو واپس نہیں لے لیتی، تب تک آندولن ختم نہیں ہوگا۔ انہوں نے امکان ظاہر کیا تھا کہ آندولن اکتوبر تک چل سکتا ہے۔

      اس کے علاوہ راکیش ٹکیٹ نے کسانوں سے ہر سال احتجاج کرنے کا ذکر بھی کیا ہے۔ جمعہ کو انہوں نے کہا کہ کسانوں کو ہرسال 2 اکتوبر پر غازی پور سرحد پر پہنچ کر احتجاج کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا، ’دو اکتوبر 2018 کو غازی پور سرحد پر کسانوں پر آنسو گیس کے گولے چھوڑے گئے تھے اور گولیاں ماری گئی تھیں۔ ہرسال ہم یہاں غازی پور بارڈر پر پروگرام کریں گے اور یہ اس سال بھی منعقد ہوگا۔

      راہل گاندھی کے بیان کی حمایت

      اس دوران راکیش ٹکیٹ نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے ’ہم دو ہمارے دو’ والے بیان کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ جیسے ملک صرف چار لوگ ہی چلا رہے ہیں۔ دہلی کی الگ الگ سرحدوں پر کسان گزشتہ سال 26 نومبر سے احتجاج کر رہے ہیں۔ حکومت اور کسان فریق کے درمیان کئی دور کی بات چیت ہوچکی ہے، لیکن کسی بڑے موضوع پر اتفاق رائے نہیں بن سکا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: