ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Farmer Protest: کمیٹی کو لے کر اٹھ رہے سوالوں پر سپریم کورٹ سخت، کہا- انہیں نہیں دیا کوئی پاور

Kisan Andolan against Farms Law: چیف جسٹس ایس اے بوبڈے نے سخت لہجے میں کہا کہ اگر کسان کمیٹی کے سامنے نہیں جانا چاہتے، تو بے شک مت جائیں، مگر ایسے کسی کی بھی شبیہ خراب نہ کریں۔ اس طرح کی برانڈنگ نہیں ہونی چاہئے۔

  • Share this:
Farmer Protest: کمیٹی کو لے کر اٹھ رہے سوالوں پر سپریم کورٹ سخت، کہا- انہیں نہیں دیا کوئی پاور
کمیٹی کو لے کر اٹھ رہے سوالوں پر سپریم کورٹ سخت، کہا- انہیں نہیں دیا کوئی پاور

نئی دہلی: نئے زرعی قانون کی واپسی کو لے کر کسان 56 دن سے آندولن (Kisan Andolan against Farms Law) کر رہے ہیں۔ 26 جنوری کو کسانوں کی ہونے والی ٹریکٹر ریلی کو لے کر دہلی پولیس کی عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ اس دوران سپریم کورٹ کی بنائی گئی ایکسپرٹ کمیٹی پر بھی سوال اٹھائے گئے۔ ایسے میں چیف جسٹس ایس اے بوبڈے نے سخت لہجے میں کہا کہ اگر کسان کمیٹی کے سامنے نہیں جانا چاہتے تو بے شک مت جائیں۔ مگر ایسے کسی کی بھی شبیہ خراب نہ کریں۔ اس طرح کی برانڈنگ نہیں ہونی چاہئے۔ چیف جسٹس نے ایک بار پھر واضح کیا کہ کمیٹی کو کوئی فیصلہ لینے کی طاقت نہیں دی گئی ہے، اسے صرف ہمیں رائے دینے کے لئے بنایا گیا ہے۔


دراصل، ایک کسان یونین نے کورٹ میں بحث کرکے کمیٹی کے اراکین کے بارے میں اپنا موقف پیش کرنے کی کوشش کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ دوے کے موکل نے کمیٹی کے بننے سے پہلے ہی کمیٹی کے سامنے نہ جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ آپ کون ہیں؟ سالسٹر جنرل نے نے دوے سے پوچھنے کو کہا- دوے کس یونین کی طرف سے پیش ہو رہے ہیں۔ سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ دوے 8 کسان یونینوں کی طرف سے پیش ہو رہے ہیں۔ دوے نے کہا کہ کسان مہا پنچایت مظاہرین کسانوں میں سے نہیں ہیں۔ پرشانت بھوشن نے کہا کہ یونینوں کا کہنا ہے کہ ہم کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔


چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ کمیٹی کو ہم نے فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دیا ہے۔ اسے صرف کسانوں کی پریشانیاں سننے اور ہمیں رپورٹ دینے کے لئے بنایا گیا ہے۔ آپ بغیر سوچے سمجھے بیان دیتے ہیں۔ کسی نے کچھ کہا تو وہ نا اہل ہوگیا؟ میں نے قوانین میں ترمیم کرنے کے لئے کہا تھا، آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ قوانین کی حمایت کرتے ہیں۔


ایسے نہیں کرسکتے برانڈنگ: چیف جسٹس

چیف جسٹس آف انڈیا نے سخت لہجے میں کہا- ’آپ اس طرح کے لوگوں کو برانڈ نہیں کرسکتے۔ لوگوں کی رائے ہونی چاہئے۔ یہاں تک کہ سب سے اچھے ججوں کی بھی کچھ رائے ہوتی ہے، جبکہ وہ دوسری طرف فیصلہ بھی دیتے ہیں’۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 20, 2021 03:27 PM IST