ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Kisan Andolan: ابھی بھی کھلے ہیں راستے، حکومت اور کسانوں میں ایسے بن سکتی ہے بات

کسان تنظیموں کی طرف سے اب آندولن (Kisan  Andolan) کو مزید تیز کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ کسانوں (Farmers)کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ وہ 12 دسمبر کو دہلی - جے پور اور دہلی - آگرہ ہائی وے پر چکا جام کریں گے۔

  • Share this:
Kisan Andolan: ابھی بھی کھلے ہیں راستے، حکومت اور کسانوں میں ایسے بن سکتی ہے بات
کسان تنظیموں کی طرف سے اب آندولن (Kisan  Andolan) کو مزید تیز کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ کسانوں (Farmers)کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ وہ 12 دسمبر کو دہلی - جے پور اور دہلی - آگرہ ہائی وے پر چکا جام کریں گے۔

نئی دہلی: نئے زرعی قانون (Agricultural Law) کو منسوخ کرانے کے مطالبات کو لے کر کسان (Farmer) گزشتہ 16 دنوں سے دہلی کے سنگھو بارڈر پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی (Prime Minister Narendra Modi) اور مرکزی زرعی وزیر نریندر سنگھ تومر مسلسل کسانوں سے بات چیت کرنے کی بات کہہ رہے ہیں، لیکن آندولن کرنے والے کسان نئے زرعی قانون پر آگے کسی بھی طرح کی بات چیت کرنے کے لئے راضی ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ حکومت سے ملی اب تک کی تمام تجاویز کو بھی کسان تنظیموں نے مسترد کردیا ہے۔ کسان تنظیموں کی طرف سے اب آندولن کو مزید تیز کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ کسانوں کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ وہ 12 دسمبر سے دہلی - جے پور اور دہلی - آگرہ ہائی وے پر چکا جام کریں گے۔




کسانوں کے سخت رویے کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے بات چیت سے بات بننے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ وزیر اعظم مودی کے اس اشارے میں اب کسان لیڈر بھی سمجھ رہے ہیں اور انہیں اب حکومت کی طرف سے نئی تجویز کا انتظار ہے۔ حالانکہ نئی تجاویز کے لئے تیار ہوپانا حکومت کے لئے اتنا آسان بھی نہیں نظر آرہا ہے۔ نئی پارلیمنٹ کی سنگ بنیاد رکھتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے اشارہ دیا کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بات چیت ہونی چاہئے۔ ان کا اشارہ کسان آندولن کی طرف تھا۔

کسان تنظیمیں بھی وزیر اعظم نریندر مودی کے اشارے کو اب سمجھ چکے ہیں۔ بھارتیہ کسان یونین اکوندا کے بوٹا سنگھ برجگل نے کہا ہے کہ اب پارلیمنٹ میں ہی بات چیت کا متبادل بچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ہی اس کا راستہ نکل سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اب جوائنٹ کسان مورچہ کو حکومت کی نئی تجویز کا انتظار ہے۔ واضح رہے کہ اپوزیشن لیڈروں کا ایک وفد صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند سے مل کر پارلیمنٹ سیشن بلانے کا مطالبہ کرچکا ہے۔ حالانکہ ابھی تک صدر جمہوریہ یا مرکزی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ سیشن بلانے سے متعلق کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے۔

کسانوں کے سخت رویے کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے بات چیت سے بات بننے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ وزیر اعظم مودی کے اس اشارے میں اب کسان لیڈر بھی سمجھ رہے ہیں اور انہیں اب حکومت کی طرف سے نئی تجویز کا انتظار ہے۔
کسانوں کے سخت رویے کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے بات چیت سے بات بننے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ وزیر اعظم مودی کے اس اشارے میں اب کسان لیڈر بھی سمجھ رہے ہیں اور انہیں اب حکومت کی طرف سے نئی تجویز کا انتظار ہے۔


اپوزیشن کر رہا ہے خصوصی سیشن بلانے کا مطالبہ

اپوزیشن بھلے ہی صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند سے مل کر پارلیمنٹ سیشن بلانے کا مطالبہ کر رہا ہو، لیکن حکومت نے پہلے ہی سرمائی اجلاس کو ملتوی کرنے کی بات کہی ہے۔ حکومت سیدھے بجٹ سیشن بلانا چاہتی ہے۔ ایسے میں نئے زرعی قانون سے پیدا ہوئے تنازعہ پر اپوزیشن مسلسل خصوصی سیشن بلانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اب یہ پوری طرح سے حکومت اور وزیر اعظم نرییندر مودی پر منحصر کرےگا کہ کہ حکومت پارلیمنٹ سیشن بلاکر بحث کو تیار ہوتی ہے یا نہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 11, 2020 08:40 AM IST