ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Kisaan Aandolan: کسانوں نے کہا- صاف نیت سے بات کرے حکومت، ٹھوس تجاویز تحریری شکل میں دیں

کسانوں کی طرف سے طے کیا گیا ہے کہ ان کی طرف سے حکومت کو خط کا جواب دیا جائے گا۔ کیرتی کسان یونین کے نائب صدر اور کسان لیڈر راجندر سنگھ نے نیوز 18کو بات چیت میں بتایا کہ میٹنگ میں ہماری طرف سے زرعی قانون کو منسوخ کرنے اور ایم ایس پی اور قانونی خرید کے قانونی حقوق دینے والے قانون کو نافذ کرنے کے مطالبے کی پھر سے تصدیق کی گئی۔

  • Share this:
Kisaan Aandolan: کسانوں نے کہا- صاف نیت سے بات کرے حکومت، ٹھوس تجاویز تحریری شکل میں دیں
کسانوں نے کہا- صاف نیت سے بات کرے حکومت، ٹھوس تجاویز تحریری شکل میں دیں۔

نئی دہلی: مودی حکومت نے جہاں زرعی قانون کو لے کر آندولن کرنے والے کسانوں کے ساتھ بات چیت کی بات کہی ہے۔ وہیں سنگھو بارڈر پر پنجاب اور دیگر ریاستوں کے سربراہ کسان لیڈروں نے ایک میٹنگ میں طے کیا ہے کہ حکومت کسانوں کو تحریری شکل میں ٹھوس تجاویز دیے۔ ان کی طرف سے واضح طور پر کہا گیا ہے کہ انہیں قانون میں ترمیم منظور نہیں۔ کسانوں کی طرف سے یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ ان کی طرف سے حکومت کو خط کا جواب دیا جائے گا۔ کیرتی کسان یونین کے نائب صدر اور کسان لیڈر راجیندر سنگھ نے نیوز 18 کو بات چیت میں بتایا کہ میٹںگ میں ہماری طرف سے زرعی قانون کو منسوخ کرنے اور ایم ایس پی اور قانونی خرید کے قانونی حقوق دینے والے قانون کو نافذ کرنے کا مطالبہ کرنے کی پھر سے تصدیق کی گئی۔


انہوں نے بتایا کہ ہماری طرف سے حکومت کو بات چیت کی کوئی تاریخ نہیں دی گئی ہے۔ تحریری جواب ایک سے دو دن میں بھیجی جائے گی۔ کسان لیڈروں نے ایک طویل میٹنگ کے بعد میڈیا سے روبر ہوتے ہوئے کہا کہ حکومت اس معاملے کو لمبا کھینچنا چاہتی ہے۔ نئے قانون کارپوریٹ گھرانے کو زرعی قانون میں داخل کرانے کی سازش ہے۔ ہم نے وزیر داخلہ امت شاہ سے بھی اس بارے میں کہا تھا۔ دراصل، زرعی قانون کو منسوخ کرانے کے مطالبے پر قائم کسان آندولن نے آج مرکزی حکومت کو اپنا جواب بھیجنے کے لئے حتمی حکمت عملی طے کرنے کے لئے سنگھو بارڈر پر میٹنگ کی تھی۔ یہ میٹنگ دوپہر 2 بجے سے سنگھو بارڈر پر شروع ہوئی، جس میں پنجاب کے علاوہ دیگر ریاستوں کے کسان لیڈران بھی شامل رہے۔


اس میٹنگ میں شامل کیریتی کسان یونین کے نائب صدر اور کسان لیڈر راجندر سنگھ نے نیوز 18 کو بات چیت میں بات چیت میں بتایا تھا کہ یہ میٹنگ حکومت کی طرف سے بھیجے گئے خط کا جواب دینے کو لے کر حکمت عملی طے کرنے کے لئے منعقد کی گئی۔ مشترکہ کسان مورچہ کی اس میٹنگ میں مرکزی وزیر برائے زراعت نریندر تومر کے ذریعہ اپنے خط میں کہی گئی باتوں کا جواب تیار کیا گیا۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 23, 2020 06:55 PM IST