ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Farmers Protest : کسان لیڈروں نے کیا اعلان ، اگر حکومت سبھی سے بات چیت کرے گی تو ہوگی گفتگو ، ورنہ نہیں

دراصل ذرائع کے حوالے سے خبر ہے کہ مرکزی حکومت کچھ کسان لیڈروں کے رابطے میں ہے اور 15 دسمبر کو ان سے اگلے دور کی بات چیت ہوسکتی ہے ۔ وہیں کچھ کسان تنظیموں نے حکومت کی جانب سے مدعو کئے جانے پر بات چیت کا بھی اشارہ دیا ہے ۔

  • Share this:
Farmers Protest : کسان لیڈروں نے کیا اعلان ، اگر حکومت سبھی سے بات چیت کرے گی تو ہوگی گفتگو ، ورنہ نہیں
Farmers Protest : کسان لیڈروں نے کیا اعلان ، اگر حکومت سبھی سے بات چیت کرے گی تو ہوگی گفتگو ، ورنہ نہیں

زرعی قوانین کو رد کرانے کے مطالبہ پر بضد کسان تنظیموں نے اس بات سے واضح طور پر انکار کردیا ہے کہ صرف کچھ لیڈروں سے ہی مودی حکومت اگلے دور کی بات چیت کرے گی ۔ کسان تنظیموں نے واضح طور پر کہا ہے کہ حکومت سے بات چیت ہوگی تو پورے نمائندہ وفد کے ساتھ ہوگی ، ورنہ نہیں ہوگی ۔ دراصل ذرائع کے حوالے سے خبر ہے کہ مرکزی حکومت کچھ کسان لیڈروں کے رابطے میں ہے اور 15 دسمبر کو ان سے اگلے دور کی بات چیت ہوسکتی ہے ۔ وہیں کچھ کسان تنظیموں نے حکومت کی جانب سے مدعو کئے جانے پر بات چیت کا بھی اشارہ دیا ہے ۔


حکومت اور کسانوں کے نمائندوں کے درمیان بات چیت میں شامل رہنے والے بھارتیہ کسان یونین ایکتا دکوندا کے جنرل سکریٹری جگموہن سنگھ نے نیوز18 سے بات چیت میں کہا کہ کسان آندولن کی اولین ترجیح ہے کہ حکومت ہم سے ہمارے پرپوزل پر بات چیت کرے اور مشترکہ کسان مورچہ کے تحت کسان آندولن کے سبھی نمائندوں سے ہی اس کی بات چیت ہو ، کچھ ایک سے نہیں ۔


حالانکہ اگر حکومت کچھ لیڈروں سے ہی بات چیت کرنا چاہتی ہے تو وہ ہمیں بتائے ۔ اس کے مطابق ہم کچھ کسان لیڈروں کو حکومت سے بات چیت کرنے کیلئے مقرر کرسکتے ہیں ۔


وہیں مودی حکومت سے بات چیت میں کسانوں کے وفد میں شامل رہنے والے کیرتی کسان یونین کے نائب صدر راجندر سنگھ نے بھی کہا کہ حکومت اگر کسانوں سے بات چیت کرنا چاہتی ہے تو اس کو نمائندہ وفد میں شامل سبھی لوگوں سے بات کرنی ہوگی ۔ صرف کچھ کسان لیڈروں سے نہیں ۔

کسان لیڈر راجندر سنگھ نے کہا کہ اتوار کو ہونے والی میٹنگ میں حکومت کی طرف سے دئے جانے والے اگلے دور کی بات چیت کی دعوت پر گفتگو ہوگی ۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ مودی سرکار کی جانب سے دی گئی پہلی تجویز پر بات چیت نہیں ہوگی کیونکہ اس میں شامل تجاویز سے ہم متفق نہیں ہیں ۔ اگر حکومت نئی تجویز دے گی تو ہی آگے کی بات چیت کی جائے گی ، ورنہ نہیں ۔

 

راجندر سنگھ نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر اور وزیر ریل پیوش گوئل سے ہونے والی بات چیت میں کسانوں کے نمائندہ وفد میں 40 افراد ہوتے ہیں ، جن میں 32 پنجاب اور 8 دیگر ریاستوں کے کسان لیڈران شامل ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Dec 12, 2020 04:57 PM IST