ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کسان ریلی تشدد : اب تک 13 ایف آئی آر درج ، پنجاب کے گینگسٹر لککھا کا آیا نام

Kisan Tractor Rally: قومی راجدھانی دہلی کی سڑکوں پر منگل کو نکالی گئی کسانوں کی ٹریکٹر پریڈ کے دوران تشدد کی وجہ سے انارکی جیسے حالات پیدا ہوگئے ۔ بڑی تعداد میں مظاہرین  بیریکیڈنگ توڑتے ہوئے لال قلعہ تک پہنچ گئے اور اس کی فصیل پر اس ستون پر ایک مذہبی جھنڈہ لگادیا ، جہاں ہندوستان کا ترنگا لہرایا جاتا ہے ۔

  • Share this:
کسان ریلی تشدد : اب تک 13 ایف آئی آر درج ، پنجاب کے گینگسٹر لککھا کا آیا نام
کسان ریلی تشدد : 8 بسیں اور 17 گاڑیوں میں توڑپھوڑ ، پولیس نے چار ایف آئی آر درج کیں

نئی دہلی : ہتھیار لے نہیں کر چلنا ، مقررہ راستوں پر عمل کرنا اور ٹریلیوں کے بغیر ٹریکٹر کے ساتھ دہلی میں داخل ہونا ، وہ کچھ شرائط تھیں ، جس پر کسان لیڈروں اور پولیس کے درمیان اتفاق رائے ہوا تھا ، مگر منگل کو یہاں ٹریکٹر پریڈ میں شامل کئی مظاہرین کے ذریعہ اس کی خلاف ورزی کی گئی ۔ زرعی قوانین کے خلاف مظاہرین کے مارچ میں اس شرط کی بھی خلاف ورزی کی گئی کہ ٹریکٹر پر پانچ سے زیادہ افراد سوار نہیں ہوں گے ۔ یہ ٹریکٹر مارچ پرتشدد ہوگیا اور اس دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان کئی مقامات پر جھڑپ بھی ہوگئی ۔


کسان یونینوں کے لیڈروں نے اتوار کو دہلی میں ٹریکٹر پریڈ کیلئے شرائط کا خاکہ پیش کیا ۔ انہوں نے یوم جمہوریہ کے دن نکالی جانے والی ٹریکٹر پریڈ میں شامل لوگوں سے امن بنائے رکھنے کی اپیل کرنے کے ساتھ ہی ان سے ہتھیار نہ رکھنے ، شراب نہیں پینے اور اشتعال انگیز پیغامات والے بینر نہیں رکھنے کیلئے کہا تھا ۔ مظاہرین کو خاص طور پر راجدھانی دہلی کے سندھو ، ٹکری اور غازی پور سرحدی پوائنٹس سے نکلنے والے تین راستوں پر عمل کرنے کیلئے کہا گیا تھا ۔


یہ بھی طے کیا گیا تھا کہ ٹریکٹر پریڈ یوم جمہوریہ کی سرکاری تقریب کے ختم ہونے کے بعد شروع ہوگی ، لیکن کسانوں کے ایک طبقہ نے اس مقررہ وقت سے پہلے ہی ٹریکٹر پریڈ شروع کردی ۔ سندھو اور غازی پور سرحد سے کچھ کسان مقررہ راستوں سے بھٹک گئے اور دہلی کی جانب چلے گئے ۔


کسانوں نے بیریکیڈنگ کو ہٹادیا اور آگے بڑھ گئے اور انہیں روکنے کی کوشش کرنے والے پولیس اہلکاروں سے ٹکڑا گئے ۔ کئی مقامات پر انہیں لاٹھی ، تلوار اور دیگر تیز دھار والے ہتھیار لئے اور پولیس اہلکاروں کا پیچھا کرتے ہوئے دیکھا گیا ۔ جب پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغ کر مظاہرین کی بھیڑ کو قابو میں کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے پتھراو کیا اور بسوں اور پولیس کی گاڑیوں سمیت کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا ۔

ذرائع کے مطابق سینٹرل دہلی میں لککھا سدانا اور اس کے قریبیوں کے دہلی پولیس پر حملہ کے معاملہ میں ہاتھ ہونے کی بات سامنے آئی ہے ۔ یہ سبھی سینٹرل دہلی میں ہوئے تشدد میں سرگرم تھے ۔ لککھا سدانا پر پنجاب میں دو درجن سے زیادہ معاملات درج ہیں ۔ اس میں گینگسٹر ایکٹ بھی شامل ہے ۔ سدانا کسان آندولن میں کافی دنوں سے سرگرم ہے ۔ پولیس اب اس کے رول کو لے کر بھی جانچ کررہی ہے ۔

پولیس نے 26 جنوری کو ہوئے پرتشدد واقعات کو لے کر اب تک 13 ایف آئی آر درج کی ہیں ، جس میں مشرقی دہلی ، دوارکا اور مغربی دہلی میں تین تین ایف آئی آر ، آوٹر نارتھ میں دو ، ایک شاہدرہ اور ایک نارتھ ضلع میں درج ہوئی ہے ، جن کی تعداد بڑھ بھی سکتی ہیں ۔ ان پرتشدد واقعات کے دوران 153 پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی خبر ہے ۔ پولیس کے مطابق شرپسندوں نے ڈی ٹی سی کی آٹھ بس ، 17 پبلک وہیکل ، چار کنٹینر ، 300 سے زیادہ لوہے کے بیریکیڈس توڑ ڈالے ۔

سنیکت مورچہ نے منگل کو کسانوں کی ٹریکٹر پریڈ کو روک دیا اور اس میں شامل لوگوں سے فورا اپنے جائے احتجاج پر واپس لوٹنے کی اپیل کی ۔ سنیکت مورچہ نے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے کسانوں کی یوم جمہوریہ پریڈ کو فوری اثر سے روک دیا ہے اور سبھی شرکا سے اپیل کی ہے کہ وہ فورا اپنے متعلقہ جائے احتجاج پر واپس لوٹ جائیں ۔

نیز کسان مورچہ نے ٹریکٹر پریڈ کے دوران تشدد میں ملوث مظاہرین سے خود کو الگ کرلیا اور الزام لگایا کہ پریڈ میں کچھ غیر سماجی عناصر داخل ہوگئے تھے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jan 27, 2021 08:00 AM IST