உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشن بھرواڈ قتل کی یہ ہے وجہ، مرڈر کیس میں کیا ہے مولانا عثمانی کا رول؟ پڑھیے پورا معاملہ

    کشن بھرواڈ کیس میں 3 لوگوں کی ہوچکی ہے گرفتاری۔

    کشن بھرواڈ کیس میں 3 لوگوں کی ہوچکی ہے گرفتاری۔

    کشن بھرواڑ قتل کیس میں تین لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گجرات اے ٹی ایس نے مولانا قمر غنی عثمانی کو دہلی سے گرفتار کیا ہے۔ عثمانی پر ملزم شبیر کو کشن کے قتل کے لیے اکسانے کا الزام ہے۔ جانئے یہ سارا معاملہ کیا ہے۔ کشن بھرواڑ کون ہے، کیوں قتل کیا گیا؟ اس کے علاوہ اس کیس کے تار کس کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

    • Share this:
      احمدآباد:گجرات میں کشن بھرواڑ قتل کیس(Kishan Bharwad Murder Case) ان دنوں سرخیوں میں ہے۔ دراصل ایک بائک سوار نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ معاملہ احمد آباد کے دھندھوکا کا تھا۔ کشن بھرواڑ قتل کیس میں تین لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گجرات اے ٹی ایس نے مولانا قمر غنی عثمانی کو دہلی سے گرفتار کیا ہے۔ عثمانی پر ملزم شبیر کو کشن کے قتل کے لیے اکسانے کا الزام ہے۔ جانئے یہ سارا معاملہ کیا ہے۔ کشن بھرواڑ کون ہے، کیوں قتل کیا گیا؟ اس کے علاوہ اس کیس کے تار کس کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

      کیا ہے قتل کی وجہ؟
      کشن بھرواڈ نے کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کیا تھا۔ اس مبینہ ویڈیو میں ایک خاص مذہب کے خلاف کچھ ریمارکس کیے گئے تھے۔ اس سلسلے میں کشن کے خلاف پولیس میں شکایت بھی کی گئی تھی۔ لیکن پھر تصفیہ کے بعد معاملہ ٹھنڈا ہوگیا تھا۔ لیکن گھر والوں کی مانیں تو کشن کو مسلسل دھمکیاں دی جارہی تھیں۔

      کس نے ماری تھی کشن کو گولی؟
      کشن کی فیس بک پوسٹ کے بعد کشن کو دو موٹر سائیکل سواروں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ قتل کی تحقیقات کے دوران پولیس نے دونوں نوجوانوں شبیر چوپڑا اور امتیاز پٹھان کو گرفتار کرلیا۔ شبیر اور امتیاز ڈھنڈوکا کے رہائشی ہیں۔

      قمر غنی سے کہاں ملے تھے دونوں نوجوان؟
      پولیس کی پوچھ تاچھ کے دوران نوجوانوں نے بتایا تھا کہ ان کی ملاقات قمر غنی سے ممبئی میں ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں قمر غنی نے نوجوانوں سے کہا تھا کہ اگر کوئی مذہب کے خلاف بات کرے تو اسے ختم کر دیں، الزام ہے کہ قمر غنی کی یہ باتیں سن کر نوجوانوں نے یہ قدم اٹھایا تھا۔

      مولانا قمر غنی عثمانی کو کیسے کیا گیا گرفتار؟
      اے ٹی ایس نے سب سے پہلے ملزم شبیر اور امتیاز کو گرفتار کیا۔ پھر ان سے پوچھ تاچھ میں کئی انکشافات ہوئے۔ ان کے کہنے پر گجرات اے ٹی ایس نے درگاہ میں تلاشی مہم شروع کی تھی۔ جمال پور کے علاقے کے مولانا قمر غنی عثمانی نے واردات کو انجام دینے والے ملزمان کو گولیاں فراہم کی تھیں۔ مولانا کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ سرچ آپریشن کے دوران واردات میں استعمال ہونے والی بندوق برآمد کر لی گئی۔

      شبیر کی مولانا سے کیا ہوئی بات؟
      پولیس کی جانچ میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزم شبیر نے احمدآباد اور ممبئی کے مولانا سے بات کی تھی۔ اس نے پاکستان کی کئی ایسی اشتعال انگیز تقاریر سنی تھی، جس کے بعد وہ مولانا سے لگاتار ملتا تھا۔ بتادیں کہ کشن بھرواڈ نامی نوجوان کا گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: