ہوم » نیوز » وطن نامہ

جانئے سوشل میڈیا پر فرضی خبر کیا ہے اور کن کن قوانین کے تحت ہوسکتی ہے کارروائی؟

FAKE NEWS ON SOCIAL MEDIA : فرضی خبر ، وہ نیوز اسٹوریز کہلاتی ہیں جو جھوٹی اور من گھڑت ہوں ، جن میں کوئی قابل تصدیق حقائق ، ذرائع یا حوالہ نہیں ہوں ۔

  • Share this:
جانئے سوشل میڈیا پر فرضی خبر کیا ہے اور کن کن قوانین کے تحت ہوسکتی ہے کارروائی؟
جانئے سوشل میڈیا پر فرضی خبر کیا ہے اور کن کن قوانین کے تحت ہوسکتی ہے کارروائی؟

فرضی خبر کیا ہے ؟


فرضی خبر ، وہ نیوز اسٹوریز کہلاتی ہیں جو جھوٹی اور من گھڑت ہوں ، جن میں کوئی قابل تصدیق حقائق ، ذرائع یا حوالہ نہیں ہوں ۔


فرضی خبر کی قسمیں


طنز یا مضحکہ خیز نقل - نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں

گمراہ کن مواد

امپوسٹر مواد

من گھڑت مواد

جھوٹے رابطے

جھوٹا یا مینوپلیٹڈ مواد

فرضی خبر کے اثر کو کنٹرول کرنے کیلئے قوانین

انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2008 کا سیکشن 66 ڈی

ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ 2005 کا سیکشن 54

انڈین پینل کوڈ 1860 کی دفعات 153 ، 499 ، 500 اور 505 (1)

اگر جرم الیکٹرانک کمیونیکیشن سے وابستہ ہو

اس پس منظر میں جو بھی کسی مواصلاتی ڈیوائس یا کمپیوٹر وسائل کے ذریعہ کسی کو دھوکہ دیتا ہے تو اس کو آئی ٹی ایکٹ کے سیکشن 66 ڈی کے تحت سزا دی جائے گی۔

آفات سے متعلق فرضی خبریں

جو کوئی بھی شخص آفات یا اس کی شدت یا اس کے حجم سے متعلق فرضی الارم یا وارننگ بناتا ہے یا اس کو سرکولیٹ کرتا ہے ، جس سے لوگوں میں انتشار پھیلے تو اس کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے سیکشن 54 کے تحت سزا دی جائے گی ۔

عوام میں فرضی الارم کیلئے جھوٹی خبریں

جو کوئی بھی شخص کوئی ایسا بیان ، افواہ یا رپورٹ بناتا ہے ، پبلش کرتا ہے یا سرکولیٹ کرتا ہے ، جو عوام کیلئے یا عوام کے کسی طبقہ کیلئے ڈر کا سبب بنتا ہے تو ایسے شخص کو آئی پی سی کی دفعہ 505 ( 1 ) کے تحت سزا دی جائے گی ۔

فساد پربا کرنے کیلئے فرضی خبریں

جو کوئی بھی شخص بدنیتی سے یا جان بوجھ کر کوئی غلط کام کرکے کسی شخص کو مشتعل کرتا ہے ، اس ارادہ سے یا یہ جانتے ہوئے کہ اس طرح کی اشتعال انگیزی فساد کا ارتکاب کرنے کی وجہ بنے گی ، ایسا شخص آئی پی سی کی دفعہ 153 کے تحت کسی بھی جرم کیلئے ذمہ دار ہوگا ۔

بدنامی کا باعث بننے والی معلومات

کوئی بھی شخص الفاظ سے خواہ وہ بولا گیا ہو یا پڑھنے کیلئے دیا گیا ہوا ، یا اشارہ یا ویزیبل ریپرزنٹیشن سے کسی شخص کو نقصان پہنچانے کیلئے تہمت لگاتا ہے یا جان بوجھ کر یا اس پر یقین کرنے کی وجہ ہوتے ہوئے کہ یہ تہمت نقصان پہنچائے گا ، ایسے شخص کی ریپوٹیشن ، ڈیفیمیشن کیلئے لائی ایبل ہے ، جو کہ آئی پی سی کے سیکشن 499 اور 500 کے تحت قابل سزا ہے ۔

نوٹ : پراچی مشرا سپریم کورٹ کی وکیل ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 16, 2021 10:30 PM IST