کانگریس سے شیو سینا میں آئے واحد مسلم ممبر اسمبلی نے مہاراشٹر میں اس طرح کم کی نظریاتی حریفوں کے درمیان دوری

مہاراشٹر میں حکومت سازی کیلئے شیو سینا کے سیاسی اور نظریاتی حریفوں کے ساتھ آنے کی بحث اپنے شباب پر ہے ۔

Nov 15, 2019 08:22 PM IST | Updated on: Nov 15, 2019 08:22 PM IST
کانگریس سے شیو سینا میں آئے واحد مسلم ممبر اسمبلی نے مہاراشٹر میں اس طرح کم کی نظریاتی حریفوں کے درمیان دوری

ادھو ٹھاکرے ۔ فائل فوٹو ۔

مہاراشٹر میں حکومت سازی کیلئے شیو سینا کے سیاسی اور نظریاتی حریفوں کے ساتھ آنے کی بحث اپنے شباب پر ہے ۔ مہاراشٹر اور باہر کے کانگریس لیڈروں کے ایک گروپ نے شیو سینا سے کسی بھی صورت میں ہاتھ نہیں ملانے کی بات کہی تھی ۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی سے لے کر کیرالہ تک کے لیڈروں کو کہنا تھا کہ اس نئے اتحاد کی وجہ سے اگلے اسمبلی انتخابات میں پارٹی پر برا اثر پڑنے کا اندیشہ ہے ۔ کانگریس کسی فیصلہ پر پہنچنے سے پہلے ہر سطح پر اپنے لیڈروں سے اس بارے میں تبادلہ خیال کررہی تھی ۔ اس معاملہ میں مہاراشٹر کے کانگریس لیڈروں کے درمیان بھی ایک رائے نہیں تھی ۔

شیو سینا کی حمایت کرنے پر کانگریس کے سینئر اور نوجوان لیڈروں کے موقف میں واضح فرق نظر آرہا تھا ۔ تاہم اس کے باوجود کانگریس اب شیو سینا کے ساتھ آگئی اور خبروں کے مطابق شیو سینا ، کانگریس اور این سی پی کے درمیان اتفاق رائے قائم ہوگیا اور یہ تینوں پارٹیاں مل کر حکومت بنانے کی تیاری میں ہیں ۔ ان تینوں پارٹیوں نے ایک کامن منیمم پروگرام پر بھی اتفاق رائے قائم کرلیا ہے ۔

Loading...

دراصل مراٹھواڑہ حلقہ کے سلود سے سابق وزیر عبد الستار نے اورنگ آباد سے ٹکٹ نہیں ملنے پر لوک سبھا انتخابات 2019 سے پہلے کانگریس چھوڑ کر شیو سینا کا دامن تھام لیا تھا ۔ وہ شیو سینا سربراہ ادھو ٹھاکرے کی موجودگی میں پارٹی میں شامل ہوئے تھے ۔ انہوں نے بی جے پی میں شامل ہونے کیلئے فڑنویس سے بھی ملاقات کی تھی ، لیکن شیو سینا نے انہیں اپنی پارٹی میں شامل کرلیا اور انہیں اسمبلی انتخابات میں سلود سے میدان میں اتارا ۔ عبد الستار نے نہ صرف کافی آسانی سے الیکشن جیت لیا بلکہ حلقہ میں کانگریس کو تیسرے مقام پر بھی پہنچادیا ۔

abdul sattar

عبد الستار کا مقابلہ ایک آزاد امیدوار سے تھا ، جس کو 90 ہزار ووٹ ملے ۔ وہ دوسرے مقام پر رہے ۔ کانگریس میں حکومت بنانے کی خواہش رکھنے والے لیڈروں نے عبد الستار کے معاملہ کو سامنے رکھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس گزشتہ کچھ سالوں میں ایسی ہی سیاسی غلطیاں کرتی رہی ہے ، جن کا بعد میں خمیازہ بھگتنا پڑا ہے ۔ اب سیاست میں کمیونل بمقابلہ سیکولر کا معاملہ ختم ہوچکا ہے ۔ ایک کانگریس لیڈر نے کہا کہ ایک مسلم اور سابق کانگریسی لیڈر شیو سینا میں شامل ہوتا ہے اور اقلیتی اکثریتی حلقہ میں آسانی سے جیت جاتا ہے ، اس سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ سیاست میں کس طرح کی تبدیلیاں آرہی ہیں ۔

شیو سینا کے ساتھ اتحاد میں حکومت بنانے کیلئے ایک اور دلیل دی گئی ۔ کانگریس لیڈروں کا کہنا تھا کہ پارٹی ممبران اسمبلی میں حکومت بناکر اقتدار میں رہنے یا اگلے پانچ سالوں تک اپوزیشن میں بیٹھنے کو لے کر بے چینی بڑھتی جارہی ہے ۔ وہیں بی جے پی مسلسل اپوزیشن کے لیڈروں کو راغب کرنے میں مصروف ہے ۔ ایسے میں مہاراشٹر ایک اور کرناٹک میں تبدیل ہوسکتا ہے ۔ ان سبھی دلائل نے کانگریس کیلئے مہاراشٹر میں شیو سینا کی حمایت کرنے کی زمین تیاری کی تھی ۔

Loading...