உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    6 ماہ کی حاملہ خاتون کے پیٹ میں چاقو سے کئی حملہ، حالت سنگین، شوہر کا دعویٰ سن کر اڑ جائیں گے ہوش

    6 ماہ کی حاملہ خاتون کے پیٹ میں چاقو سے کئی حملہ، حالت سنگین

    6 ماہ کی حاملہ خاتون کے پیٹ میں چاقو سے کئی حملہ، حالت سنگین

    چھتیس گڑھ کے کوربا کے بدھواری بستی کی رہنے والی 6 ماہ کی حاملہ خاتون کے پیٹ میں چاقو سے حملہ کیا گیا ہے۔ خاتون کی حالت سنگین ہے۔ سنگین حالت میں خاتون کو علاج کے لئے کوربا میں ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

    • Share this:
      کوربا: چھتیس گڑھ کے کوربا کے بدھواری بستی کی رہنے والی 6 ماہ کی حاملہ خاتون کے پیٹ میں چاقو سے حملہ کیا گیا ہے۔ خاتون کی حالت سنگین ہے۔ سنگین حالت میں خاتون کو علاج کے لئے کوربا میں ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ خاتون کے شوہر کا دعویٰ ہے کہ حاملہ خاتون نے خود ہی چاقو سے مارلیا ہے۔ حالانکہ پولیس معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔ دراصل کوربا کے بدھواری بستی میں رہنے والی ایک حاملہ خاتون گزشتہ رات ہوئے حادثہ میں بری طرح سے زخمی ہوگئی۔

      شوہر کا کہنا ہے کہ اس نے خود ہی چاقو سے اپنے آپ کو زخمی کیا ہے۔ متاثرہ کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں پر اس کی حالت سنگین بنی ہوئی ہے۔ سی ایس ای بی پولیس چوکی کو معاملے کی جانکاری دے دی گئی ہے۔ 6 ماہ کی حاملہ ممتا ساہو کا علاج کوربا کے ایک اسپتال میں چل رہا ہے۔ ممتا کا شوہر شیو پرساد کمپیوٹر آپریٹر ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      نوکری دلانے کے نام پر خاتون سے شوہر کے دوستوں نے ہی کی اجتماعی آبروریزی 

      بتایا گیا ہے کہ درمیانی شب کو شک کی وجہ سے جوڑے میں تنازعہ ہوگیا اور اس کے بعد یہ حادثہ ہوا۔ شوہر کے بتانے کے مطابق، قریب واقع کچن سے چاقو نکالنے کے ساتھ اپنے پیٹ پر کئی بارحملہ کیا۔ شیو پرساد کے مطابق، بچاو کی کوشش کرنے کے دوران اس کے ہاتھ میں بھی چوٹ آئی۔ شیو پرساد نے بتایا کہ دیر رات کو حادثہ کے بعد بائیک پر کسی طرح بیوی کو اسپتال لے جانے کا انتظام کیا گیا۔

      شوہر کے دعوے کی جانچ کر رہی ہے پولیس

      شیو پرساد کے ذریعہ مسلسل یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بیوی نے خود ہی اپنے جسم پر چاقو چلایا ہے۔ لیکن خاتون کے حاملہ ہونے سے اس دعوے پر تعطل برقرار ہے۔ فی الحال اسپتال انتظامیہ اس معاملے کو نگرانی میں رکھا ہے۔ خاتون اور اس کے شوہر سے جڑے لوگوں سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ خاتون کے موبائل فون کی تفصیل بھی کھنگالی جا رہی ہے۔ پولیس معاملے میں جلد ہی انکشاف کرسکتی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: