உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    محبت کی شادی کے 4 ماہ بعد خاتون ڈانسر کی مشتبہ موت، مائیکے والے بولے، شوہر نے ہی مارا

    محبت کی شادی کے 4 ماہ بعد خاتون ڈانسر کی مشتبہ موت

    محبت کی شادی کے 4 ماہ بعد خاتون ڈانسر کی مشتبہ موت

    چھتیس گڑھ کے کوربا کے ہردی بازار علاقہ میں خاتون ڈانسر کی گھر پر مشتبہ حالت میں لاش ملی ہے۔ پولیس معاملے میں خاتون کے شوہر سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ خاتون کے مائیکے والوں نے اس کے شوہر پر ہی قتل کا خدشہ ظاہر کیا اور سنگین الزام لگائے ہیں۔ پولیس معاملے کی جانچ میں مصروف ہوگئی ہے۔

    • Share this:
      کوربا: چھتیس گڑھ کے کوربا کے ہردی بازار علاقہ میں خاتون ڈانسر کی گھر پر مشتبہ حالت میں لاش ملی ہے۔ پولیس معاملے میں خاتون کے شوہر سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ خاتون کے مائیکے والوں نے اس کے شوہر پر ہی قتل کا خدشہ ظاہر کیا اور سنگین الزام لگائے ہیں۔ پولیس معاملے کی جانچ میں مصروف ہوگئی ہے۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھجوا دیا گیا ہے۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آنے کے بعد صورتحال واضح ہوگی۔ گمت کے پروگرام میں ناچ گانا کرکے زندگی گزارنے والی نو شادی شدہ ڈانسر کی مشتبہ حالت میں موت ہوگئی ہے۔

      کوربا پولس کی طرف سے اطلاع ملنے کے بعد معاملے میں مقدمہ قائم کرکے تحقیقات کی جارہی ہے۔ ہردی بازار پولس چوکی کے انچارج انسپکٹر ابھے سنگھ بیس نے بتایا کہ 26 سالہ ماہی ٹھاکر ہردی بازار بستی میں اپنے شوہر راہل بنجارے کے ساتھ کرائے کے مکان میں رہتی تھی۔ تقریباً 4 ماہ قبل دونوں نے محبت کی شادی (لو میریج) کی تھی۔ ماہی کے رشتہ دار بھی پاس ہی رہتے ہیں۔ جمعہ کو جب ماہی کی ماں ہر روز کی طرح اپنی بیٹی سے ملنے آئی تو دروازہ کھلا ہوا تھا۔ اندر جانے پر راہل نظر نہیں آیا اور ماہی بیڈ پر لیٹی تھی، جسے اٹھانے پر وہ نہیں اٹھی۔

      آس پاس کے لوگوں کو بلایا

      ماہی کو بے جان دیکھ کر ماں نے چیخ مار کر گھر والوں کو اطلاع دی تو آس پاس کے لوگ بھی جمع ہو گئے۔ واقعہ کی اطلاع پولیس کو دی گئی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر ابتدائی پوچھ گچھ میں نوشادی شدہ جوڑے کی موت کا معاملہ سامنے آنے پر اعلیٰ حکام کو اطلاع دیتے ہوئے ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کو آگاہ کیا۔ ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کے پہنچنے کے بعد پنچ نامے کی کارروائی کرتے ہوئے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا۔ دوسری جانب پولیس ماہی کے شوہر راہل بنجارے سے ضروری پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ جلد ہی پولیس اس معاملے میں انکشاف کر سکتی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: