உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ذمہ دار کون: موت آنے تک بھی نہیں جاگا سسٹم اور ہونہار انکور ہار گیا زندگی کی جنگ

    کشی نگر کے انکور کی علاج نہ ہونے کی وجہ سے موت ہو گئی۔

    کشی نگر کے انکور کی علاج نہ ہونے کی وجہ سے موت ہو گئی۔

    راکیش اپنے بیٹے کے لئے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سے علاج کرانے کی مانگ کرتے رہے، لیکن اُن کی فریاد کہیں بھی نہیں سنی گئی۔ تھک ہار کر انہوں نے اپنے بیٹے کی تکلیف دیکھتے ہوئے اس کا علاج کرانے یا پھر اُسے خواہش سے موت دینے کی مانگ کی تھی

    • Share this:
      کشی نگر: کئی مرتبہ پریشانیاں اس قدر زندگی میں حاوی ہوجاتی ہیں کہ موت ہی واحد حل نظر آنے لگتا ہے۔ ایسی ہی کچھ پریشانی کشی نگر میں رہنے والے انکور کے سامنے آئی تھی۔ پڈرونا نگر کے رہنے والے انکور کی زندگی میں سب کچھ صحیح چل رہا تھا، لیکن ایک دن اچانک اُن کی طبیعت بگڑ گئی۔ طبی جانچ میں پتہ چلا کہ انکور کے دونوں پھیپھڑے خراب ہیں۔ اس کے بعد شروع ہوا علاج اور زندگی سے جنگ کا سلسلہ۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ انکور کے تھکے ماندے والد نے حکومت کو مکتوب لکھ کر کہا کہ یہ تو علاج کا انتظام کروادیجیئے یا بیٹے کو خواہش سے موت دے دیں۔ یہ معاملہ سرخیوں میں بھی آیا، لیکن تھوڑے دن بعد کہیں کھو گیا۔ ایک بار پھر انکور کی طبیعت بگڑی اور اس بار انہیں کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں پڑی، وہ اس دنیا کو الوداع کہہ کر چلے گئے۔

      پڈرونا نگر کے رہنے والے راکیش شریواستو کے اکلوتے بیٹے تھے انکور شریواستو۔ انکور نے ڈگری کالج سے ڈگری حاصل کرنے کے بعد احمدآباد میں واقع مایا اکیڈیمی آف ایڈوانس سینمیٹکس انسٹی ٹیوٹ میں اینیمیشن گرافک ڈیائن کے کورس میں داخلہ لیا تھا۔ ایڈمیشن لینے کے تین مہینوں بعد ہی انکور کی اچانک طبیعت خراب ہوئی، جس کے بعد انہیں اسپتال میں بھرتی کرایا گیا۔ یہاں پتہ چلا کہ ان کے دونوں پھیھپڑے خراب ہیں۔ رشتہ داروں نے انہیں دلی میں واقع ایمس میں بھرتی کرانے کی کوشش کی، لیکن وہاں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے علاج نہیں ہوپایا۔ کلیجے کے ٹکڑے کی جان بچانے کے لئے میدانتا ہاسپٹل میں بھرتی کرایا، جہاں علاج کے دوران والد کی ساری جمع پونجی ختم ہوگئی۔ علاج کے لئے مزید روپیوں کے مطالبے پر راکیش کی ہمت جواب دے گئی۔ اس کے بعد ڈاکٹرس نے انکور کو National Institute of Tuberculosis and Respiratory (Delhi) میں بھرتی کرانے کی صلاح دی۔

       

      انکور شریواستو
      انکور شریواستو


      ڈاکٹروں نے دئیے دو آپشن
      ڈاکٹرس نے انکور کے گھروالوں کے سامنے دو متبادل رکھے۔ یا تو پھیپھڑا بدلواو یا پھر انکور کو گھر لے جاؤ۔ پھیپھڑا بدلوانے کے لئے 60 سے 70 لاکھ روپے کا خرچ بتایا گیا۔ انکور کے والد کے لئے اتنی بھاری رقم جٹانا مشکل تھا، کیونکہ وہ پہلے ہی سب کچھ داو پر لگا چکے تھے۔ اس دوران انہیں کہیں سے بھی مدد نہیں ملی۔ مایوس ہو کر وہ انکور کو لے کر پڈرونا آگئے۔

      بے درد نوکرشاہ
      راکیش اپنے بیٹے کے لئے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سے علاج کرانے کی مانگ کرتے رہے، لیکن اُن کی فریاد کہیں بھی نہیں سنی گئی۔ تھک ہار کر انہوں نے اپنے بیٹے کی تکلیف دیکھتے ہوئے اس کا علاج کرانے یا پھر اُسے خواہش سے موت دینے کی مانگ کی تھی، جس کے بعد کچھ ہلچل ہوئی، اُن کی فائل ڈی ایم کے ٹیبل سے ہوتے ہوئے سی ایم آفس تک پہنچ گئی لیکن لاپرواہ افسروں نے اس فائل پر غور نہیں کیا۔

      ۔۔۔اور والد کا اُٹھ گیا بھروسہ
      ان سب کے درمیان گزشتہ رات طبیعت بگڑنے پر انکور کو ضلع اسپتال لے جایا گیا، جہاں اُن کی موت ہوگئی۔ انکور کی موت کے بعد ٹوٹ چکے والد راکیش کا کہنا ہے کہ لاچار شخص کے لئے کوئی نہیں ہے۔ نہ تو حکومت اور نہ ہی سماج۔ کسی نے اُن کی مدد نہیں کی، جس کی وجہ سے اُن کے اکلوتے بیتے کی موت ہوگئی۔ اب سبھی سے یقین اُٹھ گیا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: