ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شاہین باغ میں جو ہو رہا ہے وہ حکومت کو لے کر مسلمانوں کا گزشتہ پانچ سالوں کا ڈر ہے : نجیب جنگ

یہ سوال کئے جانے پر کہ کیا مظاہروں میں لا الہ الا اللہ کا نعرہ ضروری ہے؟ تو نجیب جنگ نے کہا کہ یہ صرف ایک جذباتی نعرہ ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ فرقہ وارانہ ہے۔

  • Share this:
شاہین باغ میں جو ہو رہا ہے وہ حکومت کو لے کر مسلمانوں کا گزشتہ پانچ سالوں کا ڈر ہے : نجیب جنگ
دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ

دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ ایک بار پھر ایکشن میں ہیں ۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر مظاہرین سے خطاب کیا اور اس دوران انہوں نے کئی اہم باتیں کہیں ۔ انہوں نے شاہین باغ کی خواتین کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جب تک قانون واپس نہیں لیا جاتا ، سی اے اے کے خلاف تحریک جاری رہے گی ۔ اسی کے ساتھ ہی انہوں نے مرکزی حکومت کو بھی مشورہ دیا کہ اس کو حریف کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا ۔ نجیب جنگ نے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے لئے بھی اپنے خیالات تبدیل کردیئے ہیں ، جن کے ساتھ ان کے تعلقات اس قدر خراب ہوگئے تھے کہ معاملہ عدالت تک پہنچ گیا تھا ۔


دہلی کے سابق ایل جی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر نے متنازعہ شہریت ترمیمی ایکٹ ، کیجریوال کے بارے میں ان کی نئی رائے اور مسلم قیادت کے فقدان کے بارے میں نیوز 18 سے خاص گفتگو کی ۔


اس سوال کہ جواب میں کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ نے حال ہی میں ایک پُرتشدد رات دیکھی ، جہاں دہلی پولیس کو ایک جارحانہ قوت کے طور پر دیکھا گیا ؟، نجیب جنگ کا کہنا تھا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا واقعہ انتہائی تکلیف دہ ہے ، کیونکہ اس طرح کا واقعہ یونیورسٹی میں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا ۔ دراصل کچھ ہفتوں بعد پیش آنے والے جے این یو واقعہ پر روک لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات دہلی میں نہیں ہوتے ہیں ، میں پوری طرح حیران ہوں ۔


میرے خیال میں پولیس کے اعلی افسران نے اپنے جوانوں کو چھوڑ دیا اور آپریشن کی نگرانی نہیں کی۔ لائبریری میں حملہ افسوس ناک تھا۔ میں نے زخمی ہونے والے طلبہ سے ملاقات کی۔ ان میں 250 کے قریب اور کچھ 15 شدید زخمی ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک اپنی آنکھ کھو بیٹھا۔ میں نہیں جانتا کہ اس کے لئے مستقبل کا کیا مطلب ہے۔ کچھ طلبہ کو صدمہ پہنچا ہے۔ اس کا اثر اس کے دماغ پر پڑ رہا ہے۔ مجھے اس حملے کی سطح پر حیرت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جامعہ سیکولر یونیورسٹی ہے۔ یہ سوچنا کہ یہ ایک مسلم یونیورسٹی ہے ، ایک مکمل افسانہ ہے۔ میرے خیال میں 40 فیصد طلبہ غیر مسلم ہیں ۔ وہ ایک ساتھ ہاسٹل میں رہتے ہیں اور ایک ہی کھیل کھیلتے ہیں ۔ اس کارروائی نے انہیں بری طرح متاثر کیا ہے ۔ وہ اپنا مستقبل بنانے کے لئے چھوٹے شہروں سے آتے ہیں ۔ یہ طلبہ ہندوستان کے نوجوان ہیں اور حکام کو اعتماد کو بحال کرنے میں مدد کرنی چاہئے ۔

جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ مختلف خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ سی اے اے اور این آر سی نے پورے ہندوستان میں اقلیتوں میں وسیع پیمانے پر خوف پیدا کیا ہے ، تونجیب جنگ نے کہا کہ  پچھلے چھ سالوں میں مسلمانوں اور عیسائیوں میں خوف بڑھا ہے۔ میں یہ بھی مانتا ہوں کہ ریاستی اور مرکزی حکومتوں کو ان خدشات کو دور کرنے کے لئے اقدامات کرنے چاہئے تھے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ غیر سماجی عناصر اس طرح سے برتاؤ کرتے ہیں ۔ ہمیں اس بنیاد پر کام کرنے کی ضرورت ہے کہ غیر سماجی عناصر کو آہنی ہاتھ سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے ۔ یہ خوف حکومت کے ان فیصلوں سے پیدا ہوا ہے ، جنہیں اقلیتوں کے خلاف کارروائی کیلئے پیش خیمہ سمجھا جاتا ہے۔

مثال کے طور پرکشمیر کو دیکھیں ، جو ایک مسلم اکثریتی ریاست تھی ۔ میں یہاں آرٹیکل 370 کے اچھے یا برے ہونے کے بارے میں بات نہیں کر رہا ہوں ، تین طلاق کے مسئلہ کو دیکھ لیں ، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ اچھا ہے یا برا ، بلکہ اس کو مسلمانوں کے معاملات میں مداخلت سمجھا جاتا ہے ۔ اور اب سی اے اے اور این آر سی ، تصور یہ ہے کہ حکومت پوری طور پر مسلم کمیونٹی پر سخت ہے۔ اس سے خوف پیدا ہوا ہے اور اس خوف کا ردعمل اب ہندوستان کی سڑکوں پر نظر آرہا ہے۔

آپ شاہین باغ میں جو کچھ دیکھ رہے ہیں ، وہ ان سب کا رد عمل ہے ۔ گزشتہ پانچ سالوں میں جمع ہونے والا خوف ، وہ خوف جو اب منظرعام پر آیا ہے اور جو آپ آج مختلف مظاہروں میں دیکھ رہے ہیں ۔ ہندوستان تمام مذاہب کو جوڑتا ہے ، آپ دو کو خارج نہیں کرسکتے ہیں اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں ان کی دیکھ بھال کروں گا ۔ ہم اس ملک میں ایک ساتھ رہیں گے اور مریں گے۔

یہ سوال کئے جانے پر کہ کیا مظاہروں میں لا الہ الا اللہ کا نعرہ ضروری ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک جذباتی نعرہ ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ فرقہ وارانہ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مظاہرین نے آئین کی تمہید پڑھی ، آج انہوں نے وندے ماترم کا نعرہ لگایا ، سی اے اے کی تحریک کی وجہ سے سب سے بڑا سدھار یہ ہوا ہے کہ مسلمان یہ سمجھنے لگے ہیں کہ وندے ماترم گانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اپنی ماں کو سلام کرنے پر فخر ہے اور یہ ملک ہماری ماں ہے ۔ ہم یہ بھی نہ بھولیں کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے ، کیونکہ 85 فیصد ہندو ہیں۔
First published: Jan 22, 2020 11:54 PM IST