ہوم » نیوز » وطن نامہ

جانیں، کیوں ہڑتال پر ہیں ملک کے 15 کروڑ یونین ورکرز

نئی دہلی ۔ آج ملک بھر میں گیارہ ٹریڈ یونینوں کے 15 کروڑ ورکرز ہڑتال پر ہیں۔

  • IBN7
  • Last Updated: Sep 02, 2015 12:33 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
جانیں، کیوں ہڑتال پر ہیں ملک کے 15 کروڑ یونین ورکرز
نئی دہلی ۔ آج ملک بھر میں گیارہ ٹریڈ یونینوں کے 15 کروڑ ورکرز ہڑتال پر ہیں۔

نئی دہلی ۔ آج ملک بھر میں دس ٹریڈ یونینوں کے 15 کروڑ ورکرز ہڑتال پر ہیں۔ اس کی وجہ سے تمام سرکاری بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کے دفتروں میں کام کاج نہیں ہو رہا ہے۔ ساتھ ہی کئی مقامات پر ٹرانسپورٹ کا نظام بھی ٹھپ ہے۔ نجکاری، ٹھیکہ داری اور خالی عہدوں پر تقرری جیسے مطالبات کو لے کر 10 مرکزی ٹریڈ یونینوں نے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔


کیا ہے وجہ ؟ ورکرز یونین کم از کم اجرت 15 ہزار روپے تک بڑھانے اور ٹھیکہ مزدوروں کو ان کے ہم منصب مستقل ملازمین کے مساوی تنخواہ کی مانگ پر اڑے ہوئے ہیں اور اسے ہی لے کر وہ ہڑتال پر گئے ہیں۔ مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کی قیادت والے وزرا گروپ اور مرکزی ورکرز ایسوسی ایشن کے درمیان جمعہ کو ہوئی میٹنگ کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا تھا۔


ٹریڈ يونينس نے بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کی لیبر پالیسیوں کے خلاف ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ لیبر يونينس کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے مجوزہ تبدیلیوں سے ملک کی ورک فورس کا 70 فیصد ان قوانین کے دائرے سے باہر ہو جائے گا۔


مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم) کی حمایت یافتہ سینٹر آف انڈین ٹریڈ يونينس (سیٹو) اور کانگریس کی حمایت یافتہ انڈین نیشنل ٹریڈ يونينس کانگریس سے منسلک کول انڈیا کے کچھ  یونین ورکرزنے پیر کو نئی دہلی میں کوئلہ وزارت کی طرف سے منعقد اجلاس میں بھی حصہ نہیں لیا تھا۔ اس اجلاس میں دو ستمبر کو آل انڈیا ہڑتال پر بحث کی جانی تھی۔ سیٹو کی حمایت یافتہ آل انڈیا کول ورکرز فیڈریشن کے جنرل سکریٹری جيبن رائے نے کہا کہ 'ہم نے میٹنگ میں شامل نہیں ہونے اور ہڑتال کے فیصلے پر اڑے رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

درجن بھر مرکزی ورکرز یونینوں نے جمعہ کو وزرا گروپ کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ اس میں پندرہ ہزار روپے تک کم از کم اجرت میں اضافہ اور ٹھیکہ مزدوروں کے ساتھ ان کے باقاعدہ ملازمین کے مساوی تنخواہ کی مانگ کی گئی۔ لیکن اس کا کوئی حل نہیں نکلا جس کے بعد ہڑتال کرنے کا فیصلہ برقرار رہا۔

گیارہ ورکرز یونین دو ستمبر کے ہڑتال کی حمایت کر رہے ہیں۔ ورکرز یونین لیبر اصلاحات کی بھی مخالفت کر رہے ہیں اور تمام مزدوروں کے لئے ضمانت شدہ پنشن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

جیٹلی کے علاوہ مرکزی وزیر پٹرولیم دھرمیندر پردھان، لیبر وزیر بنڈارو دتاتریہ، توانائی کے وزیر پیوش گوئل اور پی ایم او میں وزیر مملکت جتیندر سنگھ بھی وزرا گروپ میں شامل تھے۔ وزرا گروپ نے 'فارمولے کی بنیاد پر کم از کم اجرت لازمی' بنانے کے لئے ایک مناسب قانون اور اسے ملک بھر میں تمام ملازمین کے لئے لاگو کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

لیبر قانون میں بہتری سہ فریقی مشاورت کی بنیاد پر کئے جانے کی بات پر زور دینے کے ساتھ ساتھ بونس کی حد میں اضافہ کی تجویز بھی دی گئی۔

آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس کے سکریٹری ڈی ایل سچدیو نے کہا کہ ہڑتال کا فیصلہ برقرار ہے۔ حکومت کی طرف سے کی گئی پیشکش غیر اطمینان بخش ہے۔ ہم حکومت کی باتوں سے مطمئن نہیں ہوئے۔

ملک کی 11 ٹریڈ یونینوں میں سے آر ایس ایس سے منسلک بھارتی مزدور سنگھ  نے ہڑتال سے باہر رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ حکومت کو اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے کم سے کم 6 ماہ کا وقت دیا جانا چاہئے۔ سنگھ کے برجیش اپادھیائے نے کہا کہ 'ہڑتال کو روک دینا چاہئے کیونکہ حکومت نے پہلی بار کچھ مسائل پر مثبت قدم اٹھایا ہے۔ ہمیں اسے ان پر کام کرنے کے لئے وقت دینا چاہئے۔
First published: Sep 02, 2015 12:29 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading