ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

لداخ کے وفد کی داخلی امور کے وزیر مملکت جی کشن ریڈی سے ملاقات ، کیا یہ بڑا مطالبہ

وفد نے میٹنگ کے دوران کہا کہ وہ ریاست کی تقسیم کے خلاف ہیں اور کالعدم قرار دے دی گئی دفعات 370 اور 35 اے کی بحال چاہتے ہیں ۔ تاہم اگر اس معاملہ میں جموں و کشمیر سے وابستہ سیاسی پارٹیوں کا رخ سپریم کورٹ میں مسئلہ کو حل کرنے کی طرف ہے ، تو اس میں سالوں لگ سکتے ہیں ، اس لئے لداخ کو بھی مکمل ریاست کا درجہ دیا جائے ۔

  • Share this:
لداخ کے وفد کی داخلی امور کے وزیر مملکت جی کشن ریڈی سے ملاقات ، کیا یہ بڑا مطالبہ
لداخ کے وفد کی داخلی امور کے وزیر مملکت جی کشن ریڈی سے ملاقات ، کیا یہ بڑا مطالبہ

نئی دہلی : جموں و کشمیر کے لیڈران اور سیاسی نمائندوں کی طرح لداخ کے کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے لداخ کے لئے جو مطالبات آج مرکزی حکومت کو پیش کئے ، ان مطالبات اور گریونسیز میں ریاست کی تقسیم کی مخالفت کے ساتھ ساتھ لداخ کو مکمل ریاست کا درجہ دیا جانا بھی شامل رہا ۔ وفد نے میٹنگ کے دوران کہا کہ وہ ریاست کی تقسیم کے خلاف ہیں اور کالعدم قرار دے دی گئی دفعات 370 اور 35 اے کی بحال چاہتے ہیں ۔ تاہم اگر اس معاملہ میں جموں و کشمیر سے وابستہ سیاسی پارٹیوں کا رخ سپریم کورٹ میں مسئلہ کو حل کرنے کی طرف ہے ، تو اس میں سالوں لگ سکتے ہیں ، اس لئے لداخ کو بھی مکمل ریاست کا درجہ دیا جائے ۔


تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم نریندرمودی ، وزیر داخلہ امت شاہ یعنی مرکزی حکومت کی جموں وکشمیر سے متعلق آل پارٹی میٹنگ کے بعد لداخ کے مستقبل اور انتظامیہ کے تعلق سے آج مرکزی حکومت کی دعوت پر لداخ کے کرگل سے متعلق نمائندگان پر مشتمل وفد نے دہلی میں وزارات داخلہ میں اہم میٹنگ کی ۔ حالانکہ اس مرتبہ میٹنگ میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرداخلہ امت شاہ کی جگہ وزیر مملکت برائے امور داخلہ کشن ریڈی موجود رہے ۔


آج کی میٹنگ میں خاص بات یہ رہی کہ کرگل ڈیموکریٹک الائنس کا گیارہ رکنی وفد وزارت داخلہ کے دفتر نارتھ بلاک دہلی پہنچا اور تقریبا دو گھنٹے سے زائد ملاقات چلتی رہی ۔ میٹنگ کے بعد کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے سکریٹری ناصر منشی نے کہا کہ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور ہم نے کھل اپنی باتیں اور تحفظات کااظہار کیا ، جبکہ کھلے دل و دماغ سے وزیر مملکت نے باتیں سنی ۔


منشی نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ ریاست تقسیم ہو اور جو کچھ 5 اگست 2020 کو ہوا ، اس کا عوام کو بہت قلق ہے ۔ روزگار سے لے کر نوکریوں تک میں دقتیں پیدا ہوئی ہیں ۔ تاہم جہاں ہم 370 اور دفعہ 35 اے کی بحالی چاہتے ہیں وہیں ہم نے کہا کہ 370 کا معاملہ عدالت میں ہے اورا س میں سالوں لگ سکتے ہیں ، اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر سے جس طرح سے مکمل ریاست کا وعدہ کیا گیا ہے تو ہمیں بھی مکمل ریاست کادرجہ دیا جائے ۔

وفد میں شامل ابو حنیفہ جوائنٹ سکریٹری کے ڈی اے نے کہا کہ ہم نے نوکریوں اور ملازمتوں میں حصہ داری اور ریزرویشن کی بات کی ہے ۔ نیز لداخ کے لوگ اپنے فیصلے خود کریں ۔ جس طرح سے سکم کو جب ریاست کا درجہ دیا گیا تھا ، اس وقت سکم کی آبادی محض ڈھائی لاکھ تھی ۔ تاہم لداخ کی آبادی تین لاکھ ہے ۔ جمعیت علما کرگل کے نمائندہ سجاد کرگلی نے کہا کہ ہم پرانی کشمیری ریاست چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ لیہ کے لوگوں کے لئے نوکریاں ہوں گی تو کرگل کے لوگوں کیلئے بھی نوکریاں اور روزگار ہوں گے ۔

مرکزی وزیر مملکت برائے امور خارجہ کشن ریڈی نے یقین دہانی کرائی کے وہ لداخ کے لوگوں کے مطالبات اور ان کے تحفظات پر توجہ دیں گے ۔ نیز آگے بھی میٹنگ ہوتی رہے گی ۔ علاوہ ازیں وہ ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے ، جس میں لیہ اور کرگل سے متعلق رہنماؤں کو شامل کیا گیا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 01, 2021 11:56 PM IST