உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Lakhimpur Violence: حراست میں لئے گئے اکھلیش یادو، کہا- کسانوں پر اتنا ظلم تو انگریزوں نے بھی نہیں کیا

    Lakhimpur Violence: حراست میں لئے گئے اکھلیش یادو، کہا- کسانوں پر اتنا ظلم تو انگریزوں نے بھی نہیں کیا

    Lakhimpur Violence: حراست میں لئے گئے اکھلیش یادو، کہا- کسانوں پر اتنا ظلم تو انگریزوں نے بھی نہیں کیا

    Lakhimpur Kheri Violence News: حراست میں لئے جانے سے پہلے اکھیلیش یادو نے بی جے پی حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ مرکزی وزیر مملکت اور نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کو فوراً استعفیٰ دینا چاہئے۔ مہلوکین کے اہل خانہ کو دو کروڑ کا معاوضہ ملے۔

    • Share this:
      لکھنو: لکھیم پور کھیری جانے سے روکنے کی مخالفت میں سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو پیر کو بیچ سڑک پر دھرنے پر بیٹھ گئے اور اس کے بعد پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ حراست میں لئے جانے سے پہلے اکھیلیش یادو نے بی جے پی حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ مرکزی وزیر مملکت اور نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کو فوراً استعفیٰ دینا چاہئے۔ مہلوکین کے اہل خانہ کو دو کروڑ کا معاوضہ ملے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کسانوں پر اتنا ظلم تو انگریزوں کی حکومت بھی نہیں ہوا، جتنا بی جے پی کے دور اقتدار میں ہو رہا ہے۔ آپ کو بتادیں کہ اتوار کو اترپردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے لکھیم پور کھیری دورے سے پہلے ہوئے تشدد میں چار کسانوں سمیت 8 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔

      پولیس کی گاڑی پر آگ لگائے جانے کے حادثہ پر اکھیلیش یادو نے کہا یہ تحریک (آندولن) کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔ پولیس نے خود ہی گاڑی میں آگ لگائی ہے۔ مجھے جانکاری ملی کہ تھانے کے سامنے گاڑی میں آگ لگا دی گئی ہے۔ اکھلیش یادو کو لکھیم پور کھیری جانے سے روکنے کے لئے یوپی پولیس صبح سے کوششوں میں لگی ہوئی ہے۔ یوپی پولیس نے اکھلیش یادو کی رہائش گاہ کے باہر ٹرک کھڑا کروایا تھا۔ بیرکیڈنگ کی جگہ پولیس نے 16 پہیے کا ٹرک اہم شاہراہ پر تعینات کیا تھا۔ ٹرک کو ترچھا کرکے سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کی رہائش گاہ کے باہر کھڑا کیا گیا تھا۔ وہیں اکھلیش یادو کو حراست میں لئے جانے کی مخالفت میں سماجوادی پارٹی نے ریاست بھر میں آندولن کا اعلان کیا۔ پیر کے روز اترپردیش کے سبھی اضلاع میں احتجاجی مظاہرہ کے ذریعہ سماجوادی پارٹی میمورنڈم سونپے گی۔ میمورنڈم میں ہر مہلوک کے اہل خانہ کو دو کروڑ روپئے کے اقتصادی مدد اور سرکاری نوکری کا مطالبہ ہے۔ ساتھ ہی وزیر مملکت برائے داخلہ اور نائب وزیر اعلیٰ کے استعفیٰ کا مطالبہ اور قصورواروں کو 302 کے تحت فوری طور پر جیل بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔

       بھارتیہ کسان یونین کے لیڈر راکیش ٹکیٹ نے لکھیم پور کھیری ضلع کے تکونیا میں ہوئے تشد میں چار کسانوں سمیت 9 لوگوں کی موت کے معاملے میں وزیر مملک برائے امور داخلہ اجے مشرا کی برخاستگی اور ان کے بیٹے کے خلاف قتل کا معاملہ درج کرکے اسے گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ فائل فوٹو

      بھارتیہ کسان یونین کے لیڈر راکیش ٹکیٹ نے لکھیم پور کھیری ضلع کے تکونیا میں ہوئے تشد میں چار کسانوں سمیت 9 لوگوں کی موت کے معاملے میں وزیر مملک برائے امور داخلہ اجے مشرا کی برخاستگی اور ان کے بیٹے کے خلاف قتل کا معاملہ درج کرکے اسے گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ فائل فوٹو


      مطالبات پورے ہونے کے بعد ہی مہلوک کسانوں کی آخری رسوم ادا کی جائے گی: راکیش ٹکیٹ

      بھارتیہ کسان یونین کے لیڈر راکیش ٹکیٹ نے لکھیم پور کھیری ضلع کے تکونیا میں ہوئے تشد میں چار کسانوں سمیت 9 لوگوں کی موت کے معاملے میں وزیر مملک برائے امور داخلہ اجے مشرا کی برخاستگی اور ان کے بیٹے کے خلاف قتل کا معاملہ درج کرکے اسے گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ راکیش ٹکیٹ نے پیر کی صبح پریس کانفرنس سے بات چیت میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی وزیر مملکت اجے مشرا کو برخاست کیا جائے اور کسانوں پر گاڑی چڑھا کر ان کا قتل کرنے کے الزام میں ان کے بیٹے آشیش کے خلاف قتل کا معاملہ درج کرکے اسے گرفتار کیا جائے۔ راکیش ٹکیٹ 4-3 اکتوبر کی درمیانی شب لکھیم پور کھیری پہنچے۔ انہوں نے حکومت سے اس حادثہ میں مارے گئے کسانوں کے اہل خانہ کو معاوضہ کے رقم کے طور پر ایک کروڑ روپئے اور سرکاری نوکری دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ راکیش ٹکیٹ نے کہا کہ یہ مطالبہ پورا ہونے کے بعد ہی مہلوک کسانوں کی آخری رسوم ادا کی جائے گی۔ پریس کانفرنس میں موجود دیگر کسانوں نے الزام لگایا کہ مرکزی وزیر مملکت اجے مشرا کے بیٹے نے کسانوں کو گولی بھی ماری ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: