உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    لکھیم پور میں بہنوں کی آبروریزی-قتل کیس: سپریم کورٹ کا سماعت سے انکار، پوچھا- کیا آپ متاثر ہیں

    لکھیم پور میں دو بہنوں کی آبروریزی-قتل معاملے میں سپریم کورٹ کا سماعت سے انکار

    لکھیم پور میں دو بہنوں کی آبروریزی-قتل معاملے میں سپریم کورٹ کا سماعت سے انکار

    لکھیم پور کھیری میں دلت بہنوں سے آبروریزی کے بعد قتل کا معاملہ پیر کے روز سپریم کورٹ پہنچا۔ عدالت نے اس معاملے میں سماعت سے انکار کردیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      نئی دہلی: لکھیم پور کھیری میں دلت بہنوں سے آبروریزی کے بعد قتل کا معاملہ پیر کے روز سپریم کورٹ پہنچا۔ عدالت نے اس معاملے میں سماعت سے انکار کردیا ہے۔ سپریم کورٹ نے عرضی گزار سے پوچھا کہ اس معاملے سے آپ کا متاثرہ کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ کیا آپ متاثر ہیں؟ عرضی گزار نے کہا کہ وہ معاملے میں متاثر نہیں ہیں، لیکن وہ چاہتا ہے کہ معاملے میں ایس آئی ٹی سے جانچ کرائی جائے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ریاستی حکومت اس سمت میں اپنا کام کر رہی ہے، ہم مداخلت نہیں کریں گے۔

      لکھیم پور کھیری ضلع میں دلت برادری کی دو بہنوں سے مبینہ آبروریزی کے بعد ان کے قتل کے معاملے کی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی جانب سے جانچ میں تیزی لانے کی ہدایت کے بعد مقامی پولیس سبھی چھ ملزمین پرقومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت کارروائی پر غور کر رہی ہے۔ لکھیم پور کھیری کے پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) سنجیو سمن نے بتایا تھا کہ ہم چھ ملزمین پر این ایس اے لگانے پر غور کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ چھ ملزمین اور دونوں لڑکیوں کے ڈی این اے نمونے جانچ کے لئے بھیجے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ حادثہ کے اہم ملزم جنید اور سہیل نے دو بہنوں سے آبروریزی کی اور بعد میں ان کا گلا گھونٹنا قبول کیا ہے۔ دونوں ملزم مزدور ہیں۔

      فیملی کو 25 لاکھ اور مکان دینے کا اعلان

      سمن نے کہا کہ گرفتار کئے گئے سبھی ملزم بالغ ہیں اور انہوں نے ایک ملزم کی فیملی کے ذریعہ اس کے نابالغ ہونے کا دعویٰ کرنے والی خبر کو مسترد کردیا۔ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے جمعرات کی دیر شام حکم دیا تھا کہ مہلوک کے اہل خانہ کو 25 لاکھ روپئے کی اقتصادی مدد، ایک پکا گھر اور زرعی زمین زمین دی جائے۔ وزیر اعلیٰ دفتر نے ایک ٹوئٹ میں یہ بھی کہا تھا کہ اترپردیش حکومت کے ذریعہ قتل کے اس معاملے میں فاسٹ ٹریک کورٹ میں موثر پیروی کرکے ایک ماہ کے اندر قصورواروں کو ان کے گھناونے کاموں کی سزا دلائی جائے گی۔

      لڑکیوں کی لاش کو گھر کے پاس دفنایا گیا

      لڑکیوں کو ان کے گھر کے پاس ایک کھیت میں دفن کیا گیا، کیونکہ برادری مہلوک بچوں کے آخری رسوم کی بجائے انہیں دفن کرتا ہے۔ پولیس ذرائع نے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ 15 اور 17 سال کی لڑکیوں کے ساتھ آبروریزی کی گئی اور پھر ان کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ دونوں کی لاش ان کے گھر سے قریب ایک کلو میٹر دور کھیت میں پیڑ سے لٹکے ملے۔ لکھیم پور کھیری کے پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) سنجیو سمن نے گزشتہ دن نامہ نگاروں کو بتایا کہ ابتدائی جانچ کے مطابق، لڑکیاں بدھ کے روز دوپہر دو ملزمین جنید اور سہیل کے ساتھ گھر سے نکلی تھیں۔ لڑکی کی ماں نے پہلے الزام لگایا تھا کہ ان کا اغوا کیا گیا تھا۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: