ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

بڑی خبر: جیل میں ہی رہیں گے لالو یادو، ضمانت عرضی پر ہائی کورٹ نے ڈیڑھ ماہ تک ماہ کے لئے ملتوی کی سماعت

جانکاری کے مطابق، لالو پرساد یادو کے وکیل نے سپلیمنٹری ایفیڈیوٹ داخل کرنے کے لئے اضافی وقت کا مطالبہ کیا تھا۔

  • Share this:
بڑی خبر: جیل میں ہی رہیں گے لالو یادو، ضمانت عرضی پر ہائی کورٹ نے ڈیڑھ ماہ تک ماہ کے لئے ملتوی کی سماعت
بڑی خبر: جیل میں ہی رہیں گے لالو یادو، ضمانت عرضی پر ہائی کورٹ نے ڈیڑھ ماہ تک ماہ کے لئے ملتوی کی سماعت

رانچی: چارہ گھوٹالہ معاملے میں سزا یافتہ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) سربراہ لالو پرساد یادو کو ایک بار پھر سے جھٹکا لگا ہے۔ جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے چارہ گھوٹالہ سے منسلک ایک معاملے میں لالو پرساد یادو کی ضمانت عرضی پر سماعت 6 ہفتے کے لئے ملتوی کردی ہے۔ ایسے میں آر جے ڈی سربراہ کو فی الحال جیل میں ہی رہنا ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق، لالو کے وکیل نے سپلیمنٹری ایفیڈیوٹ داخل کرنے کے لئے اضافی وقت کا مطالبہ کیا تھا۔ واضح رہے کہ ڈورنڈا ٹریژری سے غیر قانونی کلیئرنس معاملے میں قصوروار لالو یادو نے ہائی کورٹ میں ضمانت کی عرضی داخل کی تھی۔


ڈورنڈا ٹریژری سے رقم کلیئرنس معاملہ


لالو پرساد یادو پر چارہ گھوٹالہ سے منسلک کئی معاملے درج ہیں۔ جمعرات کو ہونے والی سماعت اس گھوٹالے کا پانچواں معاملہ تھا۔ یہ ڈورنڈا سے غیر قانونی نکاسی سے جڑا معاملہ ہے۔ ٹریزری سے 139 کروڑ روپئے نکال لئے گئے تھے۔ واضح رہے کہ لالو پرساد یادو کو چارہ گھوٹالہ سے منسلک تین معاملوں میں پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے۔ ڈورنڈا ٹریژری نکاسی معاملے میں سماعت کے لئے 11 دسمبر کی مدت طے کی گئی تھی، جو کہ اب آگے بڑھا دی گئی ہے۔


تین معاملات میں ضمانت

لالو پرساد یادو کو جن چار معاملوں میں سزا ملی ہے، اس کے خلاف انہوں نے ہائی کورٹ میں اپیل کی ہے۔ ان میں سے تین معاملے میں انہیں ضمانت دی جاچکی ہے۔ واضح رہے کہ لالو پرساد یادو کو سبھی معاملوں میں نصف سزا کاٹنے کی بنیاد پر ضمانت دی گئی ہے۔ دمکا ٹریژری معاملے میں بھی انہوں نے اسی بنیاد پر ضمانت مانگی ہے۔ ساتھ ہی اپنی بیماری کا حوالہ بھی دیا ہے۔

سی بی آئی کی مخالفت

واضح رہے کہ جانچ ایجنسی سی بی آئی شروعات سے ہی لالو پرساد یادو کو ضمانت دینے کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ حالانکہ، لالو پرساد یادو مختلف بنیاد پر ضمانت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو کی صحت ٹھیک نہیں رہتا ہے۔ اس وجہ سے ان کا زیادہ تر RIMS وقت اسپتال میں ہی ڈاکٹروں کی نگرانی میں کٹا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 11, 2020 12:11 PM IST