ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کورونا وائرس لاک ڈاون : پیدل ہی گھر کیلئے نکلے شخص نے موت سے پہلے فون پر کہا : لینے آسکتے ہو تو آجاو

رنویر سنگھ کے ساتھ رہنے والے لوگوں نے بتایا کہ لاک ڈاون کی وجہ سے بے روزگاری نے انہیں دہلی سے گاوں پیدل چلنے پر مجبور کردیا ۔

  • Share this:
کورونا وائرس لاک ڈاون : پیدل ہی گھر کیلئے نکلے شخص نے موت سے پہلے فون پر کہا : لینے آسکتے ہو تو آجاو
کورونا وائرس لاک ڈاون : پیدل ہی گھر کیلئے نکلے شخص نے موت سے پہلے فون پر کہا : لینے آسکتے ہو تو آجاو

کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے ان دنوں ملک بھر میں اکیس دنوں کا لاک ڈٓاون ہے ۔ اس درمیان ہفتہ کو 38 سال کے ایک شخص کی 200 کلومیٹر پیدل چلنے کے بعد موت ہوگئی ۔ اب اس کا ایک آیڈیو کال سامنے آیا ہے ، جس میں وہ اپنے گھر والوں سے بات کررہا ہے ۔ بتادیں کہ رنویر نام کا یہ شخص دہلی کے ایک ریسٹورینٹ میں کام کرتا تھا ۔ ریسٹورینٹ بند ہونے کی وجہ سے رنویر نے پیدل ہی اپنے گاون جانے کا فیصلہ کیا ، لیکن راستے میں ہی اس کی موت ہوگئی ۔


انگریزی اخبار دی انڈین ایکسپریس کے مطابق 42 سکینڈ کے اس آڈیو کال میں ایک طرف سے آواز آرہی ہے کہ کسی سے کہو کہ وہ تمہیں مورینا تک لفٹ دے دے ۔ پھر آواز آتی ہے کہ 100 نمبر پر کال کرو ۔ کیاں وہاں کوئی ایمبولنس ہے ؟ کیا وہ تمہیں یہاں تک چھوڑ سکتا ہے ۔ پھر ایک بریک کے بعد رنویر کہتا ہے کہ اگر لینے آسکتے ہو تو آجاو ۔


میڈیا رپورٹس کے مطابق رنویر دہلی سے اپنے گاوں کیلئے پیدل ہی چلا تھا ۔ صبح آگرہ پہنچنے کے بعد اس نے سینے میں درد کی شکایت کی ۔ ہفتہ کی صبح ساڑھے چھ بجے سکندرا تھانہ حلقہ میں سڑک کے کنارے ہی اس کی موت ہوگئی ۔ ان کے رشتہ دار موت کی وجہ بھوک اور پیاس بتا رہے ہیں ۔ جبکہ سکندرا تھانہ انچارج کلدیپ سنگھ کا کہنا ہے کہ موت کی وجہ ہارٹ اٹیک ہے ۔ حالانکہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کا ابھی انتظار ہے ۔


رنویر سنگھ کے ساتھ رہنے والے لوگوں نے بتایا کہ لاک ڈاون کی وجہ سے بے روزگاری نے انہیں دہلی سے گاوں پیدل چلنے پر مجبور کردیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک مقامی دکاندار تینوں کیلئے آیا اور رنویر کو چائے بسکٹ کیلئے پوچھا ، لیکن وہ نہیں بچ پایا ۔

بتایا جاتا ہے کہ سکندرا علاقہ میں کیلاش موڑ پر پہنچتے ہی رنویر کو بے چینی ہونے لگی ۔ ایسے میں وہ سڑک کنارے بیٹھ گیا ۔ اس درمیان اس کے دونوں ساتھی اس سے آگے نکل چکے تھے ۔ رنویر نے ایک دکاندار سے سینے میں درد ہونے کی بات کہی ۔ دکاندار نے گھر سے چائے اور بکسٹ لاکر کھلایا ۔ اس کے بعد طبیعت مزید بگڑ گئی ۔ تھوڑی دیر بعد ہی رنویر کی موت ہوگئی ۔ بعد میں پولیس کی مدد سے گھر والوں کو خبر کی گئی ۔
First published: Mar 30, 2020 06:33 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading