ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

پھانسی سے پہلے یہ تھی افضل گرو ، یعقوب میمن اور اجمل قصاب کی آخری خواہش

20 مارچ کو نربھیا اجتماعی آبروریزی کے گنہگاروں کو تہاڑ جیل میں پھانسی دی جانے والی ہے ۔ اس سے پہلے ان کی آخری خواہش بھی پوچھی گئی ہے ۔ لیکن اس بابت ابھی تک چاروں نے کچھ بھی نہیں کہا ہے ۔

  • Share this:
پھانسی سے پہلے یہ تھی افضل گرو ، یعقوب میمن اور اجمل قصاب کی آخری خواہش
پھانسی سے پہلے یہ تھی افضل گرو ، یعقوب میمن اور اجمل قصاب کی آخری خواہش

قتل کا گنہگار ہو یا آبروریزی کا ، پھانسی سے پہلے اس کی آخری خواہش پوچھی جاتی ہے اور جہاں تک ممکن ہوتا ہے اس کی جائز خواہش پوری بھی کی جاتی ہے ۔ نربھیا اجتماعی آبروریزی کے گنہگار سے بھی ان کی آخری خواہش پوچھی گئی ہے ، لیکن ابھی تک انہوں نے کوئی خواہش ظاہر نہیں کی ہے ۔ ہیتل پاریکھ آبروریزی اور قتل کے کیس میں گنہگار پائے گئے دھننجے چٹرجی سے بھی اس کی آخری خواہش پوچھی گئی تھی ۔ علی پور سینٹرل جیل میں اس کو پھانسی دی گئی تھی ۔ اس طرح پارلیمنٹ پر حملہ کیس کے قصوروار افضل گرو اور ممبئی سلسلہ وار بم دھماکوں کے مجرم یعقوب میمن اور ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے قصوروار اجمل قصاب سے بھی ان کی آخری خواہش پوچھی گئی تھی ۔


ہیتل پاریکھ آبروریزی اور قتل کیس میں کولکاتہ کے دھننجے چٹرجی کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی ۔ 14 اگست 2004 کو اس کو پھانسی دی گئی تھی ۔ لیکن جب پھانسی سے پہلے اس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو اس نے کہا کہ وہ اپنی آنکھ اور گردے کو عطیہ کرنا چاہتا ہے ۔ اس نے اپنے بھائی وکاس اور والد بنشی دھر کو بھی اس خواہش کے بارے میں بتایا تھا ، لیکن وقت کو دیکھنے ہوئے اس کی یہ خواہش پوری نہیں کی گئی تھی ۔


بیٹی سے بات کرنا چاہتا تھا یعقوب میمن


ممبئی سلسلہ وار بم دھماکوں کے قصوروار یعقوب میمن کو 30 جولائی 2015 کو ناگپور جیل میں پھانسی دی گئی تھی ۔ جب ضابطے کے مطابق میمن سے اس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو اس نے اپنی بیٹی سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کی ۔ حالانکہ اس کی بیٹی کو جیل میں بلاکر بات کرانا اس وقت ممکن نہیں تھا ، اس لئے فون پر اس کی بیٹی سے بات کرادی گئی ۔

اجمل قصاب نے نہیں ظاہر کی کوئی آخری خواہش

ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے مجرم اجمل قصاب کو 21 نومبر 2012 کو پھانسی دی گئی تھی ۔ دوسرے گنہگاروں کی طرح سے اس کی بھی آخری خواہش پوچھی گئی ، لیکن اجمل قصاب نے کسی بھی خواہش کو ظاہر کرنے سے منع کردیا اور کہا کہ اس کی کوئی آخری خواہش نہیں ہے ۔

افضل گرو نے تلاوت کیلئے مانگا تھا قرآن کریم

پارلیمنٹ پر حملے کے کیس میں قصوروار قرار دئے گئے افضل گرو کو 9 فروری 2013 کو تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی ۔ تہاڑ جیل انتظامیہ کے ذریعہ آخری خواہش پوچھے جانے پر افضل گرو نے تلاوت کیلئے قرآن شریف مانگا تھا ۔ جیل انتطامیہ نے اس کی اس خواہش کو پورا بھی کیا تھا ۔

نربھیا کے گنہگاروں نے نہیں بتائی کوئی آخری خواہش

ادھر 20 مارچ کو نربھیا اجتماعی آبروریزی کے گنہگاروں کو تہاڑ جیل میں پھانسی دی جانے والی ہے ۔ اس سے پہلے ان کی آخری خواہش بھی پوچھی گئی ہے ۔ لیکن اس بابت ابھی تک چاروں نے کچھ بھی نہیں کہا ہے ۔ ان کی طرف سے کسی بھی طرح کی کوئی خواہش ظاہر نہیں کی گئی ہے ۔
First published: Mar 17, 2020 05:13 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading