உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وزیر قانون نے کہا : این آر سی نافذ کرنے سے پہلے ریاستوں سے لیں گے مشورہ ، این پی آر پر کہی یہ بات

    مرکزی وزیر روی شنکر پرساد کی فائل فوٹو ۔

    مرکزی وزیر روی شنکر پرساد کی فائل فوٹو ۔

    شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کو لے کر ملک بھر میں جاری ہنگامے کے دوران مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے کہا ہے کہ طے پروسیس کے بعد ہی ملک بھر میں این آر سی نافذ کیا جائے گا ۔

    • Share this:
      شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کو لے کر ملک بھر میں جاری ہنگامے کے دوران مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے کہا ہے کہ طے پروسیس کے بعد ہی ملک بھر میں این آر سی نافذ کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ این آر سی نافذ کرنے کیلئے پہلے سبھی ریاستی حکومتوں سے بات چیت کی جائے گا ۔ انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس سے بات چیت میں روی شنکر پرساد نے کہا کہ یہ ایک قانونی عمل ہے ۔ پہلے فیصلہ ، دوسرا نوٹیفکیشن اور پھر کارروائی ، ویریفیکیشن ، آبجیکشن ، اس پر سماعت ، اس کے خلاف اپیل ۔ اس کے بعد ریاستی حکومتوں سے اس بارے میں بات چیت کی جائے گی اور ان کا فیڈبیک لیا جائے گا ۔ اگر اس بارے میں کوئی فیصلہ لیا جائے گا تو ملک کے شہریوں کے سامنے لیا جائے گا ۔ این آر سی پر کچھ بھی پوشیدہ نہیں رکھا جائے گا ۔

      روی شنکر پرساد نے کہا کہ پورے ملک میں این آر سی نافذ ہونے کے بعد شہریوں سے کون کون سے کاغذات لئے جائیں گے ، ابھی تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب این آر سی کی کارروائی شروع ہوگی تب شہریت قانون 2003 ( رجسٹریشن آف سٹیزن اینڈ ایشو آف نیشنل آئیڈینٹیفکیشن کارڈ رولس 2003) کے رول نمبر تین اور چار پر عمل کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ این آر سی کو نافذ کرنے سے پہلے اس سے وابستہ ہر ایک جانکاری شہریوں کو دی جائے گی ۔

      روی شنکر پرساد نے کہا کہ این پی آر ڈیٹا بھی انتہائی ضروری ہے ۔ انہوں نے این پی آر ڈیٹا کا استعمال سرکاری اسکیموں کو ضرورتمندوں تک پہنچانے کیلئے جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ این پی آر نافذ کرنے میں سبھی قانونی کارروائی پر بھی عمل کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ووٹر لسٹ میں نام نہیں ہے اور آپ ہندوستان کے شہری ہیں ، تو ایسے شہریوں کو ووٹ دینے کا حق نہیں ہوتا ، اس لئے ووٹر لسٹ کو صحیح کرنے کی ضرورت ہے ۔

      غور طلب ہے کہ گزشتہ ہفتہ ہی اے این آئی کے ساتھ ایک خاص انٹرویو میں وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ این پی آر اور این آر سی کی کارروائی الگ الگ ہے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ این پی آر سے جمع کئے گئے ڈیٹا کا استعمال این آر سی کیلئے نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ این آر سی اور این پی آر کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے ۔
      First published: