کٹھوعہ واقعہ: ملزمان کے وکیل انکور شرما کا متنازعہ بیان، گوجر بکروالوں کے بائیکاٹ کی کال دی

جموں : وحشیانہ کٹھوعہ عصمت دری و قتل واقعہ کے آٹھ میں سے پانچ ملزمان کے وکیل انکور شرما نے ایکاور متنازعہ بیان داغتے ہوئے جموں کے ہندؤں سے کہا ہے

Apr 25, 2018 02:58 PM IST | Updated on: Apr 25, 2018 02:58 PM IST
کٹھوعہ واقعہ: ملزمان کے وکیل انکور شرما کا متنازعہ بیان، گوجر بکروالوں کے بائیکاٹ کی کال دی

علامتی تصویر

 

جموں : وحشیانہ کٹھوعہ عصمت دری و قتل واقعہ کے آٹھ میں سے پانچ ملزمان کے وکیل انکور شرما نے ایک اور متنازعہ بیان داغتے ہوئے جموں کے ہندؤں سے کہا ہے کہ وہ اپنی زمین اور دیگر املاک مسلمانوں کو فروخت نہ کریں اور مسلمان گوجر بکروالوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ان سے دودھ اور اس سے بننے والی اشیاء خریدنا بند کریں۔

سوشل میڈیا کی ویب سائٹس پر سات منٹ طویل ایک ویڈیو گشت کررہا ہے جس میں انکور شرما کو ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران یہ متنازعہ باتیں کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ انکور شرما نے کٹھوعہ واقعہ کا چالان عدالت میں پیش ہونے کے دن سے اب تک کئی متنازعہ بیانات دیے ہیں۔

Loading...

انہوں نے گذشتہ ہفتے ایک متنازع بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ کرائم برانچ کی تحقیقات کی سربراہی ایک خاتون افسر (ڈپٹی ایس پی شیوتامبری شرما) کررہی تھیں اور اس کیس پر کام کرنا اس کی ذہانت سے باہر تھا۔ انکور شرما نے اس کے بعد ایک اور متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ جموں میں ڈیموگرافی کی تبدیلی کے خلاف مقامی لوگوں کے اندر ناراضگی پیدا ہورہی تھی اور اس ناراضگی کو ختم کرنے کے لئے آٹھ سالہ کمسن بچی کو مہرہ بنایا گیا ۔

انکور شرما کے مطابق جموں کی ہندو اکثریتی شناخت کو ختم کرنے کے لئے مختلف اسلامی تنظیمیں جموں میں ایک مخصوص کیمونٹی سے وابستہ لوگوں کو جموں کے ہندو اکثریتی علاقوں میں زمین خریدنے کے لئے پیسے دیتی ہیں۔ ان کا اشارہ ظاہری طور پر جموں میں زمین خریدنے والے کشمیریوں کی طرف تھا۔ واضح رہے کہ ضلع کٹھوعہ کے تحصیل ہیرانگر کے رسانہ نامی گاؤں کی رہنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی جو کہ گجر بکروال طبقہ سے تعلق رکھتی تھی، کو 10 جنوری کو اُس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ گھوڑوں کو چرانے کے لئے نذدیکی جنگل گئی ہوئی تھی۔ اس کی لاش 17 جنوری کو ہیرا نگر میں جھاڑیوں سے برآمد کی گئی تھی۔

کرائم برانچ پولیس نے گذشتہ ہفتے واقعہ کے سبھی 8 ملزمان کے خلاف چالان عدالت میں پیش کیا۔ کرائم برانچ نے اپنی تحقیقات میں کہا ہے کہ آٹھ سالہ بچی کو رسانہ اور اس سے ملحقہ گاؤں کے کچھ افراد نے عصمت ریزی کے بعد قتل کیا۔ تحقیقات کے مطابق متاثرہ بچی کے اغوا، عصمت دری اور سفاکانہ قتل کا مقصد علاقہ میں رہائش پذیر چند گوجر بکروال کنبوں کو ڈرانا دھمکانا اور ہجرت پر مجبور کرانا تھا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ کمسن بچی کو اغوا کرنے کے بعد ایک مقامی مندر میں قید رکھا گیاتھا جہاں اسے نشہ آور ادویات کھلائی گئیں اور قتل کرنے سے پہلے اسے مسلسل درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔

 

Loading...