تیس ہزاری کورٹ میں پولیس اوروکیلوں میں جھڑپ، فائرنگ کے بعد گاڑیوں میں لگائی آگ

تیس ہزاری کورٹ احاطے میں پارکنگ کولے کروکیلوں اوردہلی پولیس کے درمیان تنازعہ شروع ہوا۔ دونوں فریق میں جھڑپ کے بعد ایک وکیل زخمی ہوگیا، جسے سینٹ اسٹیفن اسپتال میں داخل کرایا گیا۔

Nov 02, 2019 05:26 PM IST | Updated on: Nov 02, 2019 05:26 PM IST
تیس ہزاری کورٹ میں پولیس اوروکیلوں میں جھڑپ، فائرنگ کے بعد گاڑیوں میں لگائی آگ

وکیلوں اورپولیس اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی کے بعد دہلی میں تیس ہزاری کورٹ کے باہرایک پولیس گاڑی کو آگ لگا دی گئی۔ تصویر: بھاسکی شرما ٹوئٹر

نئی دہلی: دہلی کی تیس ہزاری کورٹ میں پولیس اوروکیلوں کے درمیان جم کرجھڑپ ہوئی ہے۔ اس جدوجہد کےبعد یہاں کئی گاڑیوں میں آگ لگا دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق کورٹ کیمپس کےاندراورباہرموبائل چلانے والوں کےموبائل توڑدیئے جارہے ہیں۔ فائرنگ میں ایک وکیل کوگولی لگنےکی خبرہے۔ زخمی وکیل کواسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

بتایا جارہا ہےکہ پارکنگ کولےکروکیلوں اورپولیس کےدرمیان یہ تنازعہ شروع ہوا ہے۔  حالات کی کشیدگی کودیکھتے ہوئے یہاں کئی اضلاع سے فورس کوبلالیا گیا ہے۔ موقع پر پولیس اہلکاروں کوبڑی تعداد میں تعینات کردیا گیا ہے۔

Loading...

کچھ گاڑیوں میں بھی آگ لگائی گئی ہے۔ اس دوران فائرنگ کی بھی خبرہے۔ کوریج کررہے کچھ صحافیوں کے ساتھ بھی مارپیٹ کی گئی ہے۔ ایسی خبرہےکہ جھڑپ میں ایک وکیل زخمی بھی ہوگیا ہے، جسے قریب واقعسینٹ اسٹیفن ہاسپٹل لے جایا گیا ہے۔ دہلی پولیس اور وکیلوں کےدرمیان اس پُرتشدد تصادم کے بعد دہلی پولیس کے اعلیٰ افسران موقع پرپہنچ گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں قیدیوں کی ایک گاڑی میں آگ لگا دی گئی ہے۔ آگ بجھانے کے لئے فائربریگیڈ کی کئی گاڑیاں پہنچی ہیں۔ محکمہ فائربریگیڈ کے مطابق تیس ہزاری کورٹ میں کال ملنے پر4 گاڑیاں موقع پربھیجی گئی ہیں۔

نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے تیس ہزاری کورٹ کے ایک وکیل راہل سنگھ کہتے ہیں، 'پارکنگ کولےکرتنازعہ شروع ہوا، جس میں دہلی پولیس نے ایک وکیل کولاک اپ میں بند کر دیا۔ اس وکیل کولاک اپ میں بند کرنے سے دوسرے وکیل ناراض ہوگئےاورہنگامہ شروع ہوگیا۔ اس کے بعد عدالت کےاحاطے میں ہی لاک اپ کے باہروکیلوں اورپولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپ شروع ہوگئی۔ بعد میں وکیلوں نے پولیس پراورپولیس نے وکیلوں پرحملے کئے۔ اس ہنگامے اورجھڑپ کے بعد یہاں ٹریفک پربھی اثرپڑا ہے۔

Loading...