உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Telangana Serial Killer Case:سیریل کلر کو ملی عمر قید، 17 خواتین کا کیا تھا قتل،جیل سے چھوٹنے کے بعد بھی کیے تھے چار مرڈر

    17 خواتین کا قتل کرنے والے سیریل کلر کو ملی عمر قید کی سزا۔

    17 خواتین کا قتل کرنے والے سیریل کلر کو ملی عمر قید کی سزا۔

    کہا جاتا ہے کہ سرینو نے اپنے بھائی کو بھی قتل کر دیا تھا۔ 2009 میں اسے اپنے بھائی کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، لیکن جیل میں اچھے برتاؤ کی وجہ سے 2013 میں اسے رہا کر دیا گیا۔

    • Share this:
      Telangana Serial Killer Case:حیدرآباد: تلنگانہ کی عدالت نے 17 خواتین کو قتل کرنے والے خطرناک مجرم کو سزا کا اعلان کیا ہے۔ جوگولامبا گدوال کی عدالت نے اس سیریل کلر کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ اس کا نام یروکالی سرینو (47) ہے۔ سرینو کو قتل کے ایک مقدمے میں سزا سنائی گئی ہے۔ تیسرے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے چٹی الیوے لماں کے قتل کے الزام میں اسے مجرم ٹھہرایا گیا اور عمر قید کی سزا سنائی۔

      2019 میں ہوا تھا گرفتار
      سیریل کلر کو پولیس نے 2019 میں الیوےلماں کے قتل کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس نے ایک دہائی میں 16 دیگر خواتین کو بھی موت کے گھاٹ اتارا ہے۔ سرینو کی بیوی کو بھی ایک کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس نے اسے الیوےلماں کے قتل کے الزام میں پکڑا گیا تھا۔ بزرگ خاتون کی لاش 17 دسمبر 2019 کو محبوب نگر ضلع کے ایک گاؤں کے قریب سے ملی تھی۔

      شراب کی دکان پر کرتا تھا خواتین سے دوستی
      شراب کا عادی سرینو ان خواتین سے دوستی کرتا تھا جو دکانوں پر تاڑی کی پینے آتی تھیں۔ پکنک کے نام پر وہ انہیں ویران جگہوں پر لے جاتا اور ان کے ساتھ شراب پی کر ان کا قتل کر دیتاتھا۔ قتل کے بعد لوٹ مار کر کے وہ فرار ہو جاتا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Uttar Pradesh: ایک بار پھر لگا گنگا کنارے لاشوں کا انبار، ڈی ایم نے کہی یہ بڑی بات

      یہ بھی پڑھیں:
      Houseboat Dal Lake: ڈل جھیل میں ایک اور ہاؤس بوٹ خاکستر،9 سالہ بچی کی جھلس کر دردناک موت

      اپنے ہی بھائی کا قتل کیا تھا
      کہا جاتا ہے کہ سرینو نے اپنے بھائی کو بھی قتل کر دیا تھا۔ 2009 میں اسے اپنے بھائی کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، لیکن جیل میں اچھے برتاؤ کی وجہ سے 2013 میں اسے رہا کر دیا گیا۔ جیل سے رہائی کے بعد اس نے مزید چار قتل کی وارداتوں کو انجام دیا تھا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: