ہوم » نیوز » وطن نامہ

پارٹنر کے رہتے ہوئے کسی دوسری خاتون کے ساتھ جسمانی تعلقات بنانے کا خیال آنا صحیح ہے یا غلط؟

سیکسوئل انٹیمیسی ریلیشن شپ کی طرح ہی عزم اور رابطے کا مطالبہ کرتا ہے ۔ سیکسوئل انٹیمیسی صرف سیکس ہی نہیں ہے ۔ چھونا ، گلے لگانا ، ہاتھ تھامنا اور نرمی سے چھونا ، یہ سب اس کے تحت آتے ہیں ۔

  • Share this:
پارٹنر کے رہتے ہوئے کسی دوسری خاتون کے ساتھ جسمانی تعلقات بنانے کا خیال آنا صحیح ہے یا غلط؟
پارٹنر کے رہتے ہوئے کسی دوسری خاتون کے ساتھ جسمانی تعلقات بنانے کا خیال آناصحیح ہے یاغلط؟

سوال نمبر 15 : اپنے پارٹنر کے ساتھ دماغی اور جذباتی طور پر وابستہ ہوں ، لیکن میرے درمیان جسمانی تعلقات نہیں ہیں ، جس کی وجہ سے میں کسی دیگر خاتون کے ساتھ جسمانی تعلقات بنانے کی سوچ رہا ہوں ۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ میری یہ سوچ فطری ہے یا ایسا کرنا ممنوع ہے ؟


کسی کے ساتھ جنسی تعلقات بنانا پوری طرح سے عام بات ہے ۔ ذہن میں اس طرح کی سوچ یا جذبات کے ہونے میں کچھ بھی غلط نہیں ہے ۔ یہاں تک کہ ان ریلیشن شپ میں بھی ، جہاں پارٹنروں کے درمیان کافی حد تک آپسی اعتماد ، محبت اور جسمانی قربت ہوتی ہے ، کسی دیگر کے بارے میں جنسی تعلقات جیسے کسی خیال یا خواہش کا ہونا پوری طرح سے عام بات ہے ۔ آپ ان خواہشات کو مجسم کرنے کیلئے آزاد ہیں کہ نہیں یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کے درمیان جو تعلقات ہیں ، اس کی نوعیت اس کی اجازت دیتی ہے یا نہیں اور ایک دوسرے سے آپ کی کیا امیدیں وابستہ ہیں ۔


اگر آپ کی پارٹنر آپ سے یہ امید کرتی ہیں کہ آپ ان کے ساتھ ہی بندھ کر رہیں اور وفادار رہیں تو اس صورت میں کسی دیگر سے تعلقات بنانا اس اعتماد کو توڑنا ہوگا ۔ لیکن اس صورت میں بھی جن لوگوں کی طرف آپ مائل ہورہے ہیں ، ان کے بارے میں جنسی خواہشات یا خیالات کا ہونا پوری طرح عام بات ہے ۔ یہ انسانی فطرت ہے ۔ آپ کو اس کیلئے کسی بھی طرح کی شرمندگی محسوس کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔


پھر اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اپنے پارٹنر کے ساتھ جسمانی تعلقات نہیں بنا پانا آپ کے ذہن میں آنے والے خیالات کی اصلی وجہ نہیں ہے ۔ یہ تو ویسے بھی ہوتا ، لیکن ، ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ سے آپ کے ذہن میں جائز مایوسی آگئی ہو خاص طور پر اگر آپ اپنے پارٹنر کے ساتھ جنسی تعلقات بنانا چاہتے ہیں ۔ اگر یہ بات ہے ، تو آپ اس کو اپنی خواہش سے واقف کرادیجئے ۔

متعدد جوڑے ان کے رشتہ کی شروعات ، جس کو ہم 'ہنی مون مدت' بھی کہہ سکتے ہیں ، میں ہی سیکس لائف کا بھرپور خوشگوار وقت گزار لیتے ہیں اور کام کے دباو ، اپنے فرائض اور بچوں کی پرورش میں مصروف ہونے ، دیگر مصروفیات ، مالی حالات سے نمٹنے اور صحت سے وابستہ وجوہات سے ہونے والی کشیدگی کی وجہ ایک دوسرے سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ یہ اچھی بات ہے کہ آپ اپنے پارٹنر کے ساتھ ذہنی اور جذباتی سطح پر جڑے ہوئے ہیں ۔ کیا آپ نے کبھی اس بات کی وجہ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے کہ کس وجہ سے آپ اور آپ کے پارٹنر جنسی سطح پر ایک دوسرے سے دور ہوگئے ہیں؟ کیا یہ ایک دوسرے سے دور رہنے کا آپسی فیصلہ ہے یا کچھ اور؟

سیکسوئل انٹیمیسی ریلیشن شپ کی طرح ہی عزم اور رابطے کا مطالبہ کرتا ہے ۔ سیکسوئل انٹیمیسی صرف سیکس ہی نہیں ہے ۔ چھونا ، گلے لگانا ، ہاتھ تھامنا اور نرمی سے چھونا ، یہ سب اس کے تحت آتے ہیں ۔ یہ جسمانی ربط ، جنسی تعلقات کی راہ ہمور کرتے ہیں جو لطف اندوز ہونے پر مرکوز ہوتا ہے ۔ اپنے پارٹنر کے ساتھ بات چیت کرنا اور سیکس سے وابستہ باتیں کرنا جسمانی تعلقات بنانے کی پیشگی حالت ہے اور اس کے ذریعہ اس کو مزید ذائقہ دار بنایا جاسکتا ہے ۔ نیچے ہم ایسی کچھ ممکنہ بات چیت کے بارے میں بتا رہے ہیں ، جو آپ کے بیڈروم میں جنسی جوش کو بڑھا سکتی ہے ۔

'جب ہم جسمانی طور سے انٹیمیٹ ہوتے ہیں ، میں خود کو تمہارے زیادہ قریب پاتا ہوں ۔ میں اس طرح سے باتیں کرنا چاہتا ہوں جس سے ہم دونوں میں جنسی جوش پیدا ہو' ۔

'جس طرح سے تم ۔۔۔۔۔۔۔۔ ( انہیں ان کی جسمانی خوبصورتی ، ان کے بال ، عطر ، ان کی ڈریس ، ان کی آنکھوں کی حقیقی طور پر تعریف کریں)' ۔

عام طور پر ہم یہ سمجھ کر کہ سیکس کا ایک واحد ہدف آرگیزم ہے ، اسی پر اپنا زیادہ دھیان لگاتے ہیں ، جس کی وجہ سے اس کا حقیقی لطف ختم ہوجاتا ہے ۔ اس کے عوض میں جسمانی لطف پر اپنا دھیان لگائیں ، جس سے سیکسوئل انٹیمیسی میں زیادہ خوبصورتی پیدا ہوجائے نہ کہ سیکسوئل آگیزم تک اس لطف کو محدود کریں ۔

یہ خیالات آپ کو اس وقت بھی آسکتے ہیں جب اپنے پارٹنر کے ساتھ انٹیمیٹ ، جذباتی اور جنسی تعلقات میں ہوتے ہیں ۔ اپنے پارٹنر کے ساتھ جنسی تعلقات بنانا اس کا علاج نہیں ہوسکتا ہے ۔ حقیقت میں آپ کو اس کے علاج کی ضرورت نہیں ہے ، کیونکہ یہ کوئی گڑبڑی نے ہی نہیں ، یہ عام بات ہے ۔ اپنے پارٹنر کے ساتھ صحت مند جنسی تعلقات بنائے رکھنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ میں نے جس جنسی مایوسی کی بات کی ہے ، اس سے بچنے میں آپ کو یقینی طور پر مدد مل سکتی ہے ۔ اگر آپ کے ذہن میں اس کے بعد بھی اسی طرح کے خیالات آتے ہیں تو یہ سمجھ لیجئے کہ اس میں نہ تو آپ کی غلطی ہے اور نہ ہی آپ کے پارٹنر کی اور نہ ہی آپ کے تعلقعات میں ہی کوئی خرابی ہے ۔ اپنے تیں رحم دلی کا جذبہ رکھئے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Dec 08, 2020 12:16 AM IST