ہوم » نیوز » وطن نامہ

LJP Dispute: چراغ پاسوان کو لگا بڑا جھٹکا ، دہلی ہائی کورٹ نے خارج کی عرضی

Chirag Paswan v/s Pashupati Paras: چراغ پاسوان کو دہلی ہائی کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے ۔ چراغ پاسوان کی عرضی دہلی ہائی کورٹ نے خارج کردی ہے ۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ چراغ پاسوان کی عرضی میں کوئی بنیاد نہیں ہے ۔ دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ معاملہ لوک سبھا اسپیکر کے پاس زیر التوا ہے ، لہذا حکم دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔

  • Share this:
LJP Dispute: چراغ پاسوان کو لگا بڑا جھٹکا ، دہلی ہائی کورٹ نے خارج کی عرضی
LJP Dispute: چراغ پاسوان کو لگا بڑا جھٹکا ، دہلی ہائی کورٹ نے خارج کی عرضی

نئی دہلی : لوک جن شکتی پارٹی میں مچے گھمسان کے درمیان چراغ پاسوان کو دہلی ہائی کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے ۔ چراغ پاسوان کی عرضی دہلی ہائی کورٹ نے خارج کردی ہے ۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ چراغ پاسوان کی عرضی میں کوئی بنیاد نہیں ہے ۔ دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ معاملہ لوک سبھا اسپیکر کے پاس زیر التوا ہے ، لہذا حکم دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ لوک سبھا اسپیکر کی طرف سے لوک جن شکتی پارٹی کے رکن کے طور پر پشوپتی پارس کو وزیر کے عہدہ کا حلف لینے کے خلاف داخل چراغ پاسوان کی عرضی پر جمعہ کو دہلی ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی ۔ اسپیکر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے اس معاملہ میں اسپیکر سے بات کی ہے ۔ ان کی طرف سے جانکاری دی گئی ہے کہ وہ اس معاملہ کو دیکھ رہے ہیں ۔ وکیل نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کا بھی حوالہ دیا ۔


عدالت نے کہا کہ ہم اس معاملہ میں ابھی کوئی حکم نہیں دے سکتے ، کیونکہ اسپیکر اس معاملہ کو دیکھ رہے ہیں ۔ لوک سبھا اسپیکر کے وکیل نے کہا کہ اس عرضی پر سماعت کیلئے کوئی بنیاد نہیں ہے جب لوک سبھا اسپیکر خود اس معاملہ کو دیکھ رہے ہیں ۔ چراغ کے وکیل نے اسپیکر کے وکیل کی اس بات کی مخالفت نہیں کی ۔




عدالت کا تبصرہ

پشوپتی پارس کی طرف سے پیش وکیل نے کہا کہ جو خط پارس نے لوک سبھا اسپیکر کو دیا تھا ، اس وقت پشوپتی پارس پارٹی کے چیف وہپ تھے اور بعد میں پارٹی کے لیڈر منتخب کئے گئے تھے ۔ عدالت نے کہا کہ آپ کو الیکشن کمیشن جانا چاہئے ، یہاں نہیں آنا چاہئے تھا ۔ عدالت نے کہا کہ یہ عرضی یہاں پر مینٹینیبل نہیں ہے ۔

دہلی ہائی کورٹ میں داخل عرضی میں چراغ پاسوان نے کہا تھا کہ پارٹی مخالف سرگرمیوں اور اعلی قیادت کو دھوکہ دینے کی وجہ سے قومی صدر ہونے کے ناطے پشوپتی کمار پارس کو پارٹی سے نکالا جاچکا ہے ۔ اس وجہ سے وہ ایل جے پی کے رکن نہیں ہیں ۔ چراغ نے لوک سبھا سپیکر اوم بڑلا کے اس فیصلہ کو عدالت میں چیلنج کیا تھا جس میں ان کے چچا پشوپتی کمار پارس کے گروپ کو تسلیم کیا گیا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 09, 2021 05:05 PM IST