بٹن دباؤ دیش بناؤ مہم: اپنا ووٹ ہمیشہ ڈالنے کا انتخاب کریں

جنوبی ممبئی کا انتخابی حلقہ ممبئی کے چھ حلقوں میں سے ایک ہے۔ یہ ان حلقوں میں سے ہے جہاں ووٹ ڈالنے والوں کا تناسب سب سے کم رہا ہے۔

May 18, 2019 02:35 PM IST | Updated on: May 18, 2019 04:15 PM IST
بٹن دباؤ دیش بناؤ مہم: اپنا ووٹ ہمیشہ ڈالنے کا انتخاب کریں

نیٹ ورک 18 کی مہم، ’’بٹن دباؤ، دیش بناؤ‘‘۔

ممبئی کو خوابوں کے شہر اور ہندوستان کی معاشی راجدھانی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ تاہم، یہ شہر ووٹروں کی اعلی ترین سردمہری کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔ نیوز 18 انڈیا کے آنند نرسمہن نے اس کی وجوبات کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے ممتاز اور حالات سے اچھی طرح باخبر پینل سے اس کے متعلق معلومات چاہیں۔ ہرفن مولا اداکار رضا مراد، سابق آئی پی ایس افسر سدھاکر سرادکار، وکیل آبھا سنگھ اور اسٹینڈ اپ مزاحیہ اداکار، سبھی نے ساتھ مل کر اس پیچیدہ اور پریشان کن حالت پر روشنی ڈالی۔ ممبئی میں تقریباً 10 ملین ووٹر ہیں۔ دکھ کی بات ہے کہ ووٹنگ کے دن یعنی 29 اپریل 2019 کو شہر کے صرف 55.1٪ ووٹروں نے ووٹ ڈالے۔

حالانکہ ماہرشماریات اور معاملہ کے جانکار افراد کو اس بات سے تسلی ملتی ہے کہ یہ فیصد 1989 کے بعد سب سے زیادہ ہے، اس وقت صرف 57.7٪ لوگوں نے ووٹ ڈالا تھا، مگر 2019 میں ووٹ ڈالنے والوں کا فیصد تب بھی بہت کم ہے۔

Loading...

مزید قریب سے جانچ کرنے پر پتہ چلے گا کہ یہ فیصد ووٹروں کی ایک نسبتاً چھوٹی تعداد کے مقابلہ میں ہے۔ 2011-2012 میں انتخابی اصلاحات سے بہت سارے فرضی اور نقلی ووٹروں کے نام کا ووٹروں کی فہرست سے صفایا ہو گیا۔ فیصدوں میں ہلکے اضافہ کے پیچھے یہ وجہ بھی مانی جا رہی ہے۔

دولت مند جنوبی ممبئی کا انتخابی حلقہ ممبئی کے چھ حلقوں میں سے ایک ہے۔ یہ ان حلقوں میں سے ہے جہاں ووٹ ڈالنے والوں کا تناسب سب سے کم رہا ہے۔ قلابہ اور کفے پریڈ اس حلقہ میں آتے ہیں اور ان کا شمار ممبئی اور بھارت کے مالدار ترین علاقوں میں کیا جاتا ہے۔ درحقیقت، جنوبی ممبئی میں جائیداد کی قیمتیں دنیا بھر کی اعلی ترین قیمتوں کو ٹکر دیتی ہیں۔

آنند نرسمہن اور ان کے معزز پینل کے بیچ گفتگو اور مباحثے سے ممبئی میں ووٹروں کی سردمہری کے تعلق سے مخصوص مسائل سامنے آئے ہیں۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے کچھ حل بھی پیش کیے گئے۔

ممبئی اپنا ووٹ ڈالنے کے سلسلے میں سردمہری کا شکار کیوں ہے

اس تعلق سے بہت ساری قیاس آرائیاں ہیں۔ کچھ رائیں درج ذیل ہیں

ممبئی چونکہ دولت مند شہر ہے، وہاں پر بجلی، پانی، اچھی سڑکوں، وسائل حمل و نقل وغیرہ جیسی بنیادی شہری سہولیات کی کمی نہیں ہے۔ لوگوں کا اسی وجہ سے ووٹ ڈالنے سے کوئی مفاد وابستہ نہیں ہے کیونکہ ان کی سبھی بنیادی ضروریات کی تکمیل ہو رہی ہے اور انھیں کسی بھی قسم کی سہولیات کی کمی کا کبھی بھی سامنا نہیں ہوتا ہے۔

ممبئی علیحدگی میں رہتا ہے، اور وہ 'حقیقی' بھارت کو پیش آنے والے مسائل سے بے تعلق ہے۔

ممبئی کے رہنے والوں کا احساس یہ ہے کہ وہ سرکار کی کسی واقعی مدد کے بغیر اپنے آپ اور خود کا خیال رکھ سکتے ہیں۔ بنیادی طور پر، ان کے اندر ایک طرح کا تکبر سرایت کر گیا ہے۔

کسی بھی اچھے اختیار کی عدم موجودگی اور حکومت اور اس کے کام کاج سے متعلق غلط فہمی کا بھی کوئی ازالہ نہیں۔

اختیار کیے جا سکنے والے پیشگی اقدامات

لوگوں کو ان کے ووٹ کی اہمیت کی تعلیم دیں اور اسے ڈالنے کی انھیں ترغیب دیں۔

لازمی ووٹ کے لیے کوئی قانون نافذ کیا جا سکتا ہے، ہر اہل شہری کو انتخابات میں ووٹ ڈالنا ہوگا۔

جب امیدواروں کے خراب انتخاب کا سامنا ہو تو ان میں سے سب سے کم خامیوں والے کا انتخاب کریں یا نوٹا بٹن دبائیں تاکہ مقابلہ میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں تک یہ پیغام جائے کہ آپ انھیں مطلوبہ میعاروں پر پورا اترنے والے رہنما کے طور پر نہیں دیکھتے ہیں۔

خواتین ووٹروں کو تعلیم دینے اور انھیں ووٹنگ کے دن باہر لانے کے لیے گھر گھر مہم چلائی جانی چاہیے۔

سنیما گھروں، ریستورانوں اور دیگر آرام و تفریح کے مقامات کو صرف ان لوگوں کو داخلہ کی اجازت دینی چاہیے جو یہ ثابت کرسکیں کہ انھوں نے الیکشن کے دن ووٹ ڈالا ہے۔

 خلاصہ

آپ  کا ووٹ آپ کا بنیادی حق ہے۔ یہ آپ کے اظہار رائے کی آزادی اور آپ کی آواز ہے۔ یہ حق آپ کے لیے پانچ سالوں میں صرف ایک بار دستیاب ہوتا ہے۔ لہذا موقع کا فائدہ اٹھائیں اور اپنی پسند کی اچھی حکمرانی لانے اورملک اور آئندہ نسلوں کے لئے ایک روشن مستقبل کی شروعات کرنے کے لیے ووٹ ڈالیں۔

ممبئی نے مرحلہ 4 میں 29 اپریل 2019 کو اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ صرف 55.1٪ لوگوں نے ووٹ ڈالا۔

بٹن دباؤ، دیش بناؤ نیٹ ورک 18 کی ایک پہل ہے جوآر پی-سنجیو گوینکا گروپ کے ذریعہ پیش کی گئی ہے۔  یہ پہل ہر ہندوستانی کو جاری عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی ترغیب دیتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ

#ButtonDabaoDeshBanao

کا استعمال کرکے اس چرچا میں شامل ہوں۔

 

 

Loading...