ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی، لوک سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی

حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے مختلف امور پر ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ایوان زیریں (لوک سبھا) میں وقفہ سوالات آج متاثر رہا اور ایوان کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔

  • Share this:
پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی، لوک سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی
پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی، لوک سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی

نئی دہلی: حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے مختلف امور پر ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ایوان زیریں (لوک سبھا) میں وقفہ سوالات آج متاثر رہا اور ایوان کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔ جیسے ہی صبح 11 بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوئی کانگریس اور کچھ دوسری اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر نعرے لگانے لگے۔ وہ جاسوسی کے مبینہ الزامات، مہنگائی، کسانوں سے متعلق امور اور دیگر امور کے الزامات پر ہنگامہ کھڑا کر رہے تھے۔


ایوان کے اسپیکر اوم برلا نے اپوزیشن ممبران سے پُرسکون رہنے کی اپیل کی اوروقفہ سوالات کی کارروائی کا آغاز کیا۔ وزیر مملکت برائے زراعت اور کسان بہبود کیلاش چودھری نے شور کے درمیان جدید زراعت سے متعلق ایک سوال کا جواب دیا۔ اسی دوران حزب اختلاف کے کچھ ارکان ہاتھ میں پلے کارڈ لے کر ایوان کے وسط میں آگئے۔ مسٹر برلا نے ایک بار پھر ان سے پرسکون رہنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں پلے کارڈز لانا ضابطہ عمل کے تحت نہیں ہے۔ ممبران برائے کرم نعرے اور پلے کارڈ دکھانا بند کریں۔

انہوں نے کہا ’’آپ جس بھی معاملہ پر بحث کرنا چاہتے ہیں، حکومت اس کے لئے تیار ہے‘‘۔ لیکن جب ممبروں پر ان کی اپیل کا کوئی اثر نہیں ہوا تو انہوں نے صبح 11.30 بجے ایوان کی کارروائی کو دوپہر 2 بجے تک کیلئے ملتوی کردیا۔


وہیں دوسری جانب فون ٹیپنگ، مہنگائی اور کسانوں کے معاملے پر اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین نے آج ایوان بالا(راجیہ سبھا) میں زبردست ہنگامہ کیا، جس کی وجہ سے ایوان کو دوپہر ایک بجے تک کیلئے ملتوی کردیا گیا۔ ایوان کی کارروائی شروع ہونے اور ٹیبل پر ضروری دستاویزات رکھے جانے کے بعد حزب اختلاف کی جماعتوں کے ممبران نے ایوان کے چیئرمین ایم ونکیا نائیڈو سے ضابطہ 267 کے تحت دی جانے والی التواء تحریک کے بارے میں جاننے کی کوشش کی۔




چیئرمین نے اراکین سے پرسکون رہنے کی درخواست کی اور ایوان کی کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دی۔ اس کے بعد کانگریس سمیت اپوزیشن پارٹی کے کچھ ارکان ایوان کے وسط میں آگئے اور نعرے لگانے شروع کردیئے۔ ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ کچھ ممبران ایوان کی کارروائی نہ چلنے دینے کے فیصلے کرکے آئے ہیں۔ اسی لئے وہ ایک بجے تک ایوان کی کارروائی ملتوی کرتے ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 20, 2021 01:05 PM IST