உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تارکین وطن کو پراکسی ووٹنگ کا حق دینے والا بل لوک سبھا میں منظور

    لوک سبھا کی فائل تصویر

    لوک سبھا کی فائل تصویر

    تارکین وطن کو 'پراكسي' ووٹنگ کی سہولت دینے والے عوامی نمائندگی ترمیم بل 2017 کو لوک سبھا نے صوتی ووٹوں سے منظوری دے دی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      تارکین وطن کو 'پراكسي' ووٹنگ کی سہولت دینے والے عوامی نمائندگی ترمیم بل 2017 کو لوک سبھا نے صوتی ووٹوں سے منظوری دے دی۔ ایوان میں اس بل پر مختصر بحث کا جواب دیتے ہوئے قانون و انصاف کے وزیر روی شنکر پرساد نے کہا کہ آئین بناتے وقت ہمارے باپ دادا نے ذات، مذہب، طبقہ، تعلیم اور معیار زندگی کو دیکھے بغیر ہر ہندوستانی کو ووٹ کا حق دیا تھا۔ ستر سال پہلے عام ہندوستانی پر بھروسہ کیا گیا تو آج ہم تارکین وطن پر بھروسہ کیوں نہیں کر سکتے ہیں۔

      انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں تارکین وطن کی تعداد تین کروڑ دس لاکھ کے ارد گرد ہے۔ لوگوں کو سمجھنا چاہئے کہ ماریشس، ٹرنيڈاڈ کے وزیر اعظم ہندوستان سے ملازمت کرنے جانےوالے لاکھوں ہندوستانیوں میں سے ہیں۔ تارکین وطن کی شراکت کو احترام دینا ہوگا۔

      انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں زیادہ تر وقت انتخابات چلتے رہتے ہیں۔ کبھی اسمبلی، کبھی لوک سبھا یا کبھی مقامی اداروں کے انتخابات ہوتے ہیں۔ انہوں نے پراکسی ووٹنگ کی مخالفت کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ پراکسی الفاظ کوئی گندا لفظ نہیں ہے۔ كارپوریٹ دنیا میں بورڈ یا حصص یافتگان کے اجلاسوں میں پراکسی شرکت اور ووٹنگ کا چلن عام ہے۔ ہمیں تارکین وطن ہندوستانیوں کی حکمت پر بھروسہ کرنا ہوگا۔

      تارکین وطن کے ووٹوں کو خریدے جانے کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تارکین وطن نے اپنی محنت سے دولت کمائی ہے۔ انہیں ووٹ فروخت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پراکسی کی بجائے ای- ووٹنگ کا حق دیئے جانے کی مانگ پر انہوں نے کہا کہ دنیا میں ای- ووٹنگ کا نظام کہیں بھی سوفیصد محفوظ نہیں ہے۔ اس کی ڈیٹا چوری ہونے یا رازداری تحلیل ہونے کا خدشہ برقرار رہتا ہے۔ پراکسی میں ووٹر کو اس کے کسی رشتہ دار کو ہی ووٹ دینے کا حق مل جائے گا۔ مسٹر پرساد نے ممبران پارلیمنٹ کی تجاویز اور اعتراضات کا دستور العمل میں مکمل خیال رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔ اس کے بعد ایوان نے صوتی ووٹوں سے بل کو منظوری دے دی۔
      First published: