உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کی نصیحت- ایوان چلانا حکومت، اپوزیشن دونوں کی اجتماعی ذمہ داری

    لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کی نصیحت- ایوان چلانا حکومت، اپوزیشن دونوں کی اجتماعی ذمہ داری

    لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کی نصیحت- ایوان چلانا حکومت، اپوزیشن دونوں کی اجتماعی ذمہ داری

    لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے بدھ کو پارلیمنٹ کے مونسون سیشن کے دوران محض 22 فیصد کام ہونے پر افسوس کا اظہار کیا اور ایوان کو چلانے کی حکومت اور اپوزیشن دونوں کی اجتماعی ذمہ داریوں کو تسلیم کیا۔ اومبرلا نے یہ بات لوک سبھا کے غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہونے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے بدھ کو پارلیمنٹ کے مونسون سیشن کے دوران محض 22 فیصد کام ہونے پر افسوس کا اظہار کیا اور ایوان کو چلانے کی حکومت اور اپوزیشن دونوں کی اجتماعی ذمہ داریوں کو تسلیم کیا۔ اومبرلا نے یہ بات لوک سبھا کے غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہونے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہی۔ انہوں نے بتایا کہ اس سیشن میں کام توقع کے مطابق نہیں ہوا۔ اس معاملے میں انہیں افسوس ہے۔ ان کی کوشش تھی کہ ایوان میں زیادہ سے زیادہ کام کیا جائے، قانون سازی کا کام کیا جائے اور عوامی مسائل پر بات کی جائے۔ لیکن اس مرتبہ جو تعطل تھا ختم نہیں ہو سکا۔

      انہوں نے بتایاکہ پچھلے دو برسوں میں پارلیمنٹ کے کام کاج کے لحاظ سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ایوان دیر رات تک چلتا رہا اور تمام موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس بار بھی انہوں نے وہی کوشش کی لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ اسپیکر نے کہا کہ 17 ویں لوک سبھا کے مانسون سیشن میں اس مرتبہ مقررہ 96 گھنٹوں میں سے کل 74 گھنٹے 46 منٹ تک کام نہیں ہو سکا۔ ایوان نے 17 اجلاس منعقد کیے جو 21 گھنٹے اور 14 منٹ تک جاری رہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران 13 حکومتی بل متعارف کروائے گئے اور 20 بل منظور کئے گئے، جن میں آئین کا 127 واں ترمیمی بل 2021 شامل ہے۔ سیشن میں زبانی طور پر 66 سوالات کے جوابات دیئے گئے۔ اس طرح ایوان کی پیداواری صلاحیت صرف 22 فیصد رہی۔

      اوم برلا نے بتایا کہ کووڈ کے باوجود اپوزیشن اراکین کے علاوہ ہر ایک نے ایوان کے کام میں مثبت تعاون کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ملک کے عوام اور خود ان کی خواہش رہتی ہے کہ ایوان آسانی سے چلے۔ امید ہے کہ ایوان مستقبل میں اس مثبت جذبے کے ساتھ چلے گا۔ وہ بحث کرنا چاہیں گے آزادی کے 75 برسوں میں پورے ملک میں کتنی ترقی ہوئی اور کیا امکانات ہیں، اس پر بحث ہو۔ اپوزیشن اراکین کے رویے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں مسٹر برلا نے بتایا کہ تمام ممبران سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایوان کے وقار کو برقرار رکھیں گے۔ پارلیمنٹ کا وقار اعلیٰ رہا ہے۔ اس سے پہلے بھی بحثیں ہوتی تھیں۔ لیکن ایوان کا وقار ہمیشہ قائم رہا۔ پلے کارڈز ، نعرے بازی وقار کے مطابق نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پریزائیڈنگ افسران کی میٹنگ میں بھی اس پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
      انہوں نے بتایا کہ کل جماعتی اجلاس میں انہوں نے تمام جماعتوں کے قائدین کے ساتھ بات چیت کی تھی ، جس میں قائدین نے کہا تھا کہ ان کے مسائل پر بات ہونی چاہیے۔ کچھ مسائل پر تنازعات ہیں لیکن بات چیت ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پلے کارڈز دکھانے اور نعرے بازی کے لیے کارروائی کرنے کے بھی قوانین ہیں۔ تمام ممبران کے لیے طریقہ کار بیان کیے گئے ہیں۔ لیکن ان کا ماننا ہے کہ ایوان عمل سے نہیں چلتا بلکہ باہمی افہام و تفہیم ، بات چیت اور بحث سے چلتا ہے۔ کارروائی کرنا آخری آپشن ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکمران جماعت یا اپوزیشن ایوا ن میں تعطل کی ذمہ دار ہے مسٹر برلا نے کہا کہ ایوان کو چلانا ہر ایک کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ تمام ممبران سے اتفاق رائے اور اختلاف رائے کے باوجود اجتماعیت کے جذبے پر چلنے کی توقع ہے۔ انہوں نے اراکین سے اپیل کی کہ اگر وہ ایوان کے اندر کسی بھی مسئلے پر بحث کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی جگہ پر بیٹھ کر بحث کرنی چاہیے۔ اگر ایوان منظم ہوگا بحث ہو سکتی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: