ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

لو جہاد قانون : گرفتاریوں کے خلاف جمعیۃ علما ہند کی عرضی سپریم کورٹ کے بعد الہ آبادہائی کورٹ میں بھی داخل

جمعیۃ علما ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے کہا کہ اس طرح کی قانون سازی آئین کے رہنما اصولوں کے خلاف ہے اور یہ قانون شہریوں کی آزادی اور خود مختاری پر ایک حملہ ہے ، جبکہ آئین میں ملک کے ہر شہری کو نہ صرف مکمل مذہبی آزادی دی گئی ہے ۔

  • Share this:
لو جہاد قانون : گرفتاریوں کے خلاف جمعیۃ علما ہند کی عرضی سپریم کورٹ کے بعد الہ آبادہائی کورٹ میں بھی داخل
جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشدمدنی ۔ فائل فوٹو ۔

یوپی کے سیتا پور شہر سے لوجہاد کے نام پر گرفتار خلاف قائم مقدمہ ختم کرکے انہیں جیل سے فوراً رہا کئے جانے کی عرضداشت جمعیۃعلماء ہند کی قانونی امداد کمیٹی کی طرف سے الہ آبادہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ میں داخل کردی گئی ہے ۔ یہ اطلاع جمعیۃ علما ہند کی جاری کردہ ریلیز میں دی گئی ہے۔


ریلیز کے مطابق جمعیۃعلماء ہند نے الزام لگایا کہ حکومتیں لو جہاد کے نام پر مسلمانوں کو ہراساں کررہی ہیں اور آئین ہند کے ذریعہ حاصل بنیادی حقوق کو اقتدار کے بل بوتے پر پامال کررہی ہیں ۔ حکومتوں کے اس امتیازی رویہ کے خلاف اب جمعیۃ علماء ہند نے بھی اپنی قانونی جدوجہد کا آغاز کردیا ہے، اس پٹیشن پر آئندہ منگل یابدھ کو سماعت ہوسکتی ہے۔


جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے معاملہ کی تفصیل پرروشنی ڈالتے ہوئے بتایاکہ ملزمین کے اہل خانہ نے مولانا وکیل احمد قاسمی کے توسط سے صدرجمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی سے قانونی امداد طلب کی تھی جسے منظور کرتے ہوئے ملزمین کی رہائی کے لئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے اور ملزمین کی رہائی کے لئے پٹیشن داخل کردی گئی ہے ۔


ادھر جمعیۃ علما ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے کہا کہ اس طرح کی قانون سازی آئین کے رہنما اصولوں کے خلاف ہے اور یہ قانون شہریوں کی آزادی اور خود مختاری پر ایک حملہ ہے ، جبکہ آئین میں ملک کے ہر شہری کو نہ صرف مکمل مذہبی آزادی دی گئی ہے ۔ بلکہ اسے اپنی پسند اور ناپسند کے اظہارکا بھی پورا اختیاردیا گیا ہے ۔

مولانا مدنی نے یہ بھی دعوی کیا کہ اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ اترپردیش میں خاص طورپر اس طرح کے معاملوں میں اگر لڑگا ہندو ہے توپولس لڑکی کے گھروالوں کی تمام ترکوشش کے باوجود شکایت تک درج نہیں کرتی الٹے ایسے جوڑوں کو پولس تحفظ بھی فراہم کرتی ہے ۔ انہوں نے آگے کہا کہ اس طرح کے واقعات یہ بتانے کیلئے کافی ہیں کہ اس قانون کا استعمال اقلیتوں اور خاص طورپر مسلمانوں کے خلاف ہی ہورہا ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jan 17, 2021 11:05 PM IST