உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہریانہ: 19 سال کی لڑکی اور 67 سال کے بزرگ کا پیار نکلا سچا، لڑکی نے کہا- اپنی مرضی سے کی شادی

    ہائی کورٹ میں دی گئی جانکاری میں بتایا گیا کہ مرد کی پیدائش 1953 میں ہوئی ہے جبکہ لڑکی کی پیدائش 2001 میں۔ اس نے بتایا تھا کہ وہ 15ہزار روپئے کماتا ہے اور نکاح کے لئے مہر کے طور پر اس نے 15 گرام سونا دیا ہے۔

    ہائی کورٹ میں دی گئی جانکاری میں بتایا گیا کہ مرد کی پیدائش 1953 میں ہوئی ہے جبکہ لڑکی کی پیدائش 2001 میں۔ اس نے بتایا تھا کہ وہ 15ہزار روپئے کماتا ہے اور نکاح کے لئے مہر کے طور پر اس نے 15 گرام سونا دیا ہے۔

    ہائی کورٹ میں دی گئی جانکاری میں بتایا گیا کہ مرد کی پیدائش 1953 میں ہوئی ہے جبکہ لڑکی کی پیدائش 2001 میں۔ اس نے بتایا تھا کہ وہ 15ہزار روپئے کماتا ہے اور نکاح کے لئے مہر کے طور پر اس نے 15 گرام سونا دیا ہے۔

    • Share this:
      چنڈی گڑھ: کہتے ہیں پیار عمر نہیں دیکھتا، محبت کبھی بھی ہوسکتی ہے۔ ہریانہ کے پلول (Palwal) ضلع کے ہتھین علاقے میں محبت کی شادی (Love Marriage) کا ایک انوکھا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں 67 سال کے بزرگ نے 19 سال کی لڑکی سے نکاح کیا ہے۔ دونوں نے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ (Punjab And Haryana High Court) پہنچ کر خود کے شوہر - بیوی ہونے کی بات کہہ کر اپنے اہل خانہ سے جان کا خطرہ بتاتے ہوئے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے خدشہ ظاہر کیا تو معاملے کی جانچ کی گئی۔ اس کے بعد پولیس نے بھی ہائی کورٹ کو بتایا کہ معاملہ دل کا ہی ہے اور میں کوئی گڑبڑی نہیں ہے۔

      پلول کے ایس پی دیپک گہلاوت نے ہائی کورٹ میں سونپی رپورٹ میں بتایا کہ اس معاملے میں لڑکی پر کسی طرح کا دباو نہیں تھا۔ کل ملاکر یہ معاملہ دل کا تھا۔ ہتھین کے ایس ڈی ایم کے سامنے لڑکی کے بیان درج ہوئے، جس میں اس نے بتایا کہ اس نے اپنی ماں کی رضامندی سے یہ شادی کی تھی۔

      ڈی ایس پی کی قیادت والی ٹیم نے جانچ میں پایا کہ مرد کے 7 بچے ہیں اور سبھی شادی شدہ ہیں۔ اس کی اہلیہ کی موت ہوچکی ہے۔ لڑکی بھی شادی شدہ ہے۔ گزشتہ سال اس کی شادی راجستھان میں ہوئی تھی اور اس کا شوہر زندہ ہے۔ لڑکی نے کہا کہ اس نے طلاق لئے بغیر یہ شادی کی ہے۔ اس کا شوہر کسی اور خاتون سے پیار کرتا ہے اور اسے اس کی شادی سے کوئی اعتراض نہین ہے۔

      دونوں پہلے سے شادی شدہ

      واضح رہے کہ محبت کی شادی کرنے والے بزرگ اور لڑکی دونوں پہلے سے شادی شدہ ہیں۔ بزرگ شخص کو سات بچے ہیں، جو سبھی شادی شدہ ہیں۔ اس کی اہلیہ کی چار سال قبل انتقال ہوگیا تھا۔ وہیں شادی کرنے والی لڑکی بھی پہلے سے شادی شدہ ہے اور اسے کوئی بچہ نہیں ہے۔ ڈی ایس پی نے بتایا کہ لڑکی کے اہل خانہ کا گاوں میں زمینی تنازعہ تھا اور محبت کی شادی کرنے والا بزرگ شخص ان کی مدد کرنے جاتا تھا۔ اس دوران ان دونوں (بزرگ شخص اور لڑکی) کے درمیان رابطہ ہوا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: