உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اب رسوئی گیس سلینڈر کے دام بھی چھوئیں گے آسمان! اسمبلی انتخابات کے بعد بڑھیں LPG Price، روس یوکرین جنگ نے بھی بڑھائی مصیبت

    اب رسوئی گیس سلینڈر کے دام بھی چھوئیں گے آسمان! اسمبلی انتخابات کے بعد بڑھیں LPG Price، روس یوکرین جنگ نے بھی بڑھائی مصیبت

    اب رسوئی گیس سلینڈر کے دام بھی چھوئیں گے آسمان! اسمبلی انتخابات کے بعد بڑھیں LPG Price، روس یوکرین جنگ نے بھی بڑھائی مصیبت

    LPG Gas Cylinder Price May Hike: پٹرول ڈیزل کے بعد اب گھریلو رسوئی گیس سلینڈر کی قیمتیں بھی جھٹکا دینے والی ہیں ۔ لگاتار ہورہے گھاٹے کو دیکھتے ہوئے تیل کمپنیاں پانچ ریاستوں میں ہورہے اسمبلی انتخابات کے بعد ایل پی جی کی قیمتیں بڑھا سکتی ہیں ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : پٹرول ڈیزل کے بعد اب گھریلو رسوئی گیس سلینڈر کی قیمتیں بھی جھٹکا دینے والی ہیں ۔ لگاتار ہورہے گھاٹے کو دیکھتے ہوئے تیل کمپنیاں پانچ ریاستوں میں ہورہے اسمبلی انتخابات کے بعد ایل پی جی کی قیمتیں بڑھا سکتی ہیں ۔ پبلک سیکٹر کی تیل کمپنیوں نے رسوئی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے ۔ کمرشیل گیس سلینڈر کی قیمتوں میں 105 روپے کا اضافہ ہوا ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : یوکرین کے بعد روس کا اگلا نشانہ ہے یہ ملک! بیلا روس کے صدر کے Battle Map نے کھولا راز


      دراصل روس ۔ یوکرین جنگ کے بعد کچے تیل کی بڑھتی قیمتوں کو دیکھتے ہوئے تیل کمپنیاں کمرشیل گیس سلینڈر کے بعد اب گھریلو رسوئی گیس سلینڈر کے دام بھی بڑھا سکتی ہیں ۔ ابھی پانچ کلو کے رسوئی گیس سلینڈر کے دام بھی 27 روپے بڑھ گئے ہیں ۔ ایسے میں مانا جارہا ہے کہ پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے بعد گھریلو گیس سلینڈر کے ساتھ ساتھ پٹرول ڈیزل کے دام بھی بڑھ سکتے ہیں ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : ہندوستان چاہ کر بھی روس کی مخالفت کیوں نہیں کرسکتا؟ 10 پوائنٹس میں جانئے اس کی وجوہات


      ایک مارچ سے ہوئے اضافہ کے بعد راجدھانی دہلی میں کمرشیل سلینڈر کی قیمت 1907 سے بڑھ کر 2012 روپے فی سلینڈر ہوگئی ہے ۔ پانچ کلوگرام والے چھوٹے گیس سلینڈر کے دام 27 روپے بڑھ کر ۔۔۔ روپے ہوگئے ہیں ۔ کمپنیوں نے گھریلو گیس سلینڈر کی قیمتوں میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں ہے ۔ گھریلو گیس سلینڈر کی قیمت چھ اکتوبر 2021 کے بعد مستحکم ہیں ۔ ایسے میں الیکشن کے بعد دام بڑھ سکتے ہیں ۔

      پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی پچھلے 119 دنوں سے کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے ۔ مرکزی سرکار نے تین اکتوبر 2021 کو پٹرول پر پانچ اور ڈیزل پر دس روپے فی لیٹر ایکسائز ڈیوٹی میں کٹوتی کی تھی ۔ اس کے بعد کئی ریاستی سرکاروں نے بھی اپنا ٹیکس کم کیا تھا ۔ اس وقت بین الاقوامی بازار میں خام تیل کے دام اوسطا 82 ڈالر فی بیرل تھے ۔ روس اور یوکرین کی لڑائی میں کچے تیل کے دام 104 ڈالر کے پار پہنچ گئے ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: